کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 483
"جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔"[1] اس صورت حال میں دو تین سال کے بعد میاں بیوی کے مابین شقاق و افتراق پیدا ہو سکتا ہے،اور اس میں عورت کے لیے نقصان دینے کا پہلو بھی ہے۔اور اس قسم کے آدمی کو اس طرح کی کوئی اور عورت مل سکتی ہے تو یہ اس سے شادی کر لے یا کسی بیوی اور مطلقہ سے نکاح کر لے،جس کی پہلے اولاد ہو اور اب اسے مزید اولاد کی خواہش نہ ہو۔(محمد بن عبدالمقصود) سوال:کسی عالی نسب لڑکی کو اس سے کم تر خاندان میں بیان دینے کا کیا حکم ہے؟ جواب:شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ کسی عالی نسب لڑکی کو اس سے کم تر خاندان میں بیاہ دیا جائے بشرطیکہ وہ اس پر راضی ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کی شادیاں غیر بنی ہاشم میں کی تھیں،مثلا حضرت عثمان بن عفان اور ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہما،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی صاجزادی کی شادی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کر دی تھی،اسی طرح جناب حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی دختر سیدہ سکینہ نے چار آدمیوں سے شادی کی،اور ان میں سے کوئی بھی بنی ہاشم میں سے نہیں تھا۔اور سلف میں بغیر کسی طعن و عیب کے یہ کام ہوتا رہا ہے۔ ہاں بعد میں ایسا ضرور ہوا ہے کہ کچھ علاقوں میں کچھ خاندان اپنی بیٹیوں کو اپنی برائی اور تکبر کی وجہ سے غیر خاندان میں نہیں دیتے ہیں اور واضح ہے کہ اس سے بے شمار خرابیاں اور فتنہ و فساد سامنے آتا ہے اور ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا بہترین نمونہ کافی ہے۔(محمد بن ابراہیم) سوال:میری اپنی بیوی کے ساتھ تو تکار ہو گئی،تو میں نے اسے مارا جس سے اس کی ڈاڑھ ٹوٹ گئی،مگر اپنی جگہ سے نکلی نہیں۔تو کیا اس صورت میں مجھ پر قصاص واجب ہے۔کیا میں اپنی بیوی کے ساتھ جو میں نے اس کو نقصان پہنچایا ہے کوئی صلح کر سکتا ہوں؟ اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں،وجزاکم اللّٰہ خیرا جواب:یہ بات انتہائی نامناسب ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑا اس حد تک پہنچ جائے کہ اسے مارنے،زخمی کرنے یا دانت وغیرہ توڑنے تک نوبت آ جائے۔یہ بات دو عام مسلمانوں میں بھی جائز نہیں ہے،کجا کہ میاں بیوی کے درمیان ہو۔اللہ عزوجل نے انہیں بھلے اور دستور کے موافق زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے۔اور یہ معاملہ کہ اس جھگڑے میں دانت ٹوٹ گیا ہے،تو اس میں کیا ہے؟ تو اس میں دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ آپ دونوں آپس میں صلح کر لیں۔یا آپ بیوی تم سے درگزر کرے اور بالکل ہی معاف کر دے اور کوئی عوض نہ چاہے،اور یہ سب سے افضل ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [1] صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب قول النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم من غشنا فلیس منا،حدیث:101،وسنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب النھی عن الغش،حدیث:2225ومسند احمد بن حنبل:2؍417،حدیث:9385۔