کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 405
جواب:عورت کو پردے کی خاطر اپنی چادر کو چہرے سے دور رکھنے کے لیے کوئی لکڑی یا کوئی پگڑی وغیرہ رکھنے کی قطعا ضرورت نہیں ہے،اور ان چیزوں کا استعمال بدعت ہے۔اور بعض حضرات جو یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ "عورت کا احرام اس کے چہرے میں ہے۔" یا عورت کے چہرے کو کپڑا نہیں لگنا چاہیے۔ یہ اس صراحت کے ساتھ کسی حدیث میں نہیں آیا۔اورمذکورہ بالا روایت بھی صحیح نہیں ہے۔بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر عورت کے چہرے کو کپڑا مس کر بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔بلکہ واجب ہے کہ جب اجنبی لوگ سامنے آئیں تو وہ اپنا چہرہ چھپائے۔اور کپڑا لگنے کی صورت میں اس پر کوئی فدیہ وغیرہ نہیں ہے۔ عورت کو چہرہ چھپانا مطلقا منع نہیں ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام میں تھیں،قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے،تو ہم میں سے ایک اپنے کپڑے کو اپنے سر سے اپنے چہرے پر لٹکا لیتی تھی،اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اپنے چہرے کھول لیتی تھیں۔"[1] اور اس میں انہوں نے کسی فدیے وغیرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔(محمد بن ابراہیم) سوال:اس عورت کا کیا حکم ہے جس کے سر کے بال احرام کے دوران میں نہ چاہتے ہوئے بھی ٹوٹتے ہوں یا گرتے ہوں؟ جواب:اگر محرم،مرد ہو یا عورت،اس کے سر سے وضو کرتے ہوئے یا غسل کرتے ہوئے بال ٹوٹیں یا گریں،تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اسی طرح اگر بلا عمد ناخن ٹوٹ جائے یا مرد کی داڑھی یا مونچھوں سے بال گرتے ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔منع یہ ہے کہ جان بوجھ کر عمدا (احرام کی حالت میں) بال یا ناخن کاٹنا جائز نہیں ہے۔اور جو از خود ٹوٹتے یا گرتے ہوں تو وہ مردہ بال ہوتے ہیں جو معمولی حرکت سے گرنے لگتے ہیں،ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔(عبدالعزیز بن باز) سوال:کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ احرام حج کے دوران میں اپنے کپڑے تبدیل کر لے؟ اور کیا احرام کا کوئی خاص لباس ہوتا ہے؟ اور عورت کے لیے احرام کے دوران میں نقاب اور دستانوں کا کیا حکم ہے؟ جواب:محرمہ عورت کے لیے جائز ہے کہ دورانِ احرام اپنا لباس کسی بھی ضرورت سے تبدیل کر سکتی ہے اور جن کپڑوں میں احرام کی نیت کی تھی انہیں بدل لینا جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا لباس نہیں ہے۔یہ کوئی سے بھی کپڑے پہن سکتی ہے،صرف پابندی یہ ہے کہ نقاب نہ لے اور نہ دستانے پہنے۔نقاب سے مراد وہ خاص کپڑا ہے جو عورتیں اپنے چہرے کے پردے کے لیے ستعمال کرتی ہیں،اور اس میں آنکھوں سے دیکھنے کے لیے سوراخ رکھے ہوتے ہیں۔اور دستانے معروف ہیں جو ہاتھوں پر پہنے جاتے ہیں۔ اور مردوں کے احرام کے لیے خاص لباس ہے یعنی ایک نیچے باندھنے کی چادر (ازار) اور دوسری کندھوں [1] سنن ابی داود،کتاب الحج،باب فی المحرمۃتغضی وجھھا،حدیث:1833۔