کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 394
بعض صحابہ سے نقل کیا گیا ہے کہ "تمتع صحابہ رسول سے خاص تھا۔" وہ یوں کہ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا جبکہ آپ مروہ پہاڑی پر تھے،آپ نے لوگوں سے فرمایا تھا کہ"اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی قربانی ساتھ لایا ہوں تو میں بھی تمہارے ساتھ حلال ہو جاتا ۔۔" سراقہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول!ہمارا یہ تمتع کیا اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ تو آپ نے فرمایا؛ "بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے،عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا۔"[1] (ناصر الدین الالبانی) سوال:کیا حج تمتع والا (قربانی نہ پانے کی صورت میں) مدینہ منورہ جا کر روزے رکھ سکتا ہے؟ جواب:سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے کہ جو عمرہ کر کے مدینہ آ چکا ہے یا آنا چاہتا ہے،تو اس کے لیے ہم کہتے ہیں کہ آیت کریمہ کا ظاہرمفہوم یہ ہے: فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ (البقرۃ:2؍196) "تو جو حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے تو وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے،اور جس کو نہ ملے وہ تین روزے حج میں رکھے۔" جس آدمی نے حج کے مہینے میں عمرہ کیا ہو اور پھر قربانی نہ پانے کی صورت میں ان مہینوں کے اندر تین روزے رکھ لے،تو اس نے مذکورہ بالا فرمان پر عمل کر لیا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہر تمتع کرنے والا،جسے قربانی کی وسعت نہ ہو،موجودہ حالات میں میں اسے نصیحت کرتا ہوں کہ روزہ رکھنے میں جلدی نہ کرے،حتیٰ کہ قربانی کا دن آ جائے اور اسے یقین ہو جائے کہ قربانی نہیں مل سکتی (تب روزے رکھے) کیونکہ عین ممکن ہے کہ جسے شروع میں قربانی میسر نہ تھی،بعد میں اللہ اس کے لیے قربانی کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔اور اگر بالفرض اس نے پہلے روزے رکھ لیے اور پھر بعد میں قربانی مل گئی تو اسے قربانی کرنی ہو گی،کیونکہ یہ اب صاحب وسعت ہو گیا ہے۔ الغرض ایسے آدمی کو روزہ رکھنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ حتیٰ کہ قربانی کا دن آ جائے۔اگر اس دن تک قربانی نہ ملے تو روزے رکھے اور اللہ کا فرمان بھی اسی طرح ہے کہ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ (البقرۃ:2؍196) "حج کے دوران میں تین روزے رکھے۔" یعنی ذبح کے دن کے بعد۔(ناصر الدین الالبانی ) سوال:گزشتہ سالوں میں ہم حج کے لیے گئے تو ہمارے ساتھ ایک بوڑھی خاتون تھی جو خاصی بیمار تھی۔اس کے ساتھ [1] صحیح مسلم،کتاب الحج،باب حجۃالنبی صلی اللّٰه علیہ وسلم،حدیث:1218وسنن ابی داود،کتاب المناسک،باب فی افراد الحج،حدیث:1790وسنن الترمذی،کتاب الحج،باب العمرہ اواجبۃ ھی ام لا،حدیث:932۔