کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 384
کرام نے وجوب عمرہ کی دلیل لینے کی کوشش کی ہے حالانکہ اس سے بھی یہی نکلتا ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے۔کیونکہ اس میں دو حجوں کا بیان ہے۔یعنی اکبر اور اصغر کا جیسے کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر آیا ہے:يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ (التوبہ:9؍3) بخلاف عمرے کے کہ اس کا کوئی وقت معین نہیں ہے،اسے سال کے سب مہینوں میں ادا کیا جا سکتا ہے۔(ایک اور انداز سے بھی غور کیجیے کہ) عمرہ اور حج آپس میں ایسے ہیں جیسے کہ وضو اور غسل۔غسل جنابت والے کے صرف غسل ہی کافی ہوتا ہے۔جمہور کے نزدیک اسے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔تو اسی طرح عمرہ اور حج ہے،اور یہ ایک ہی طرح کی دو عبادتیں ہیں،ایک بڑی ہے اور دوسری چھوٹی۔جب بڑی ادا کر دی گئی تو چھوٹی کا ادا کرنا واجب نہیں ہو گا۔تاہم چھوٹی کا ادا کرنا افضل و اکمل ضرور ہے جیسے کہ غسل کے ساتھ وضو کرنا افضل و اکمل ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے بھی ایسے ہی کیا تھا،بلکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے حج کو تمتع بنا لیں اور فرمایا:"عمرہ حج میں داخل ہو چکا،قیامت تک کے لیے ۔۔"[1] واللہ اعلم۔ (شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ) سوال:کیا کسی مسلمان عورت کے لیے جائز ہے کہ اگر اس کے اپنے اقرباء میں سے کوئی محرم موجود نہ ہو تو وہ قابل اعتماد خواتین کی معیت میں حج کے لیے چلی جائے؟ یا مثلا اس کا والد فوت ہو چکا ہو تو اپنی والدہ،خالہ یا پھوپھی کی معیت میں روانہ ہو جائے یا کسی قابل اعتماد اجنبی کو اپنے ساتھ لے لے جو بطورمحرم اس کے ساتھ رہے اور اسے حج کروائے؟ جواب:اس مسئلے میں صحیح یہ ہے کہ سفر حج کے لیے عورت کو اپنے شوہر یا کسی محرم مرد کی معیت کے بغیر سفر کرنا جائز نہیں ہے،خواہ وہ اس کی پھوپھی ہو یا خالہ یا والدہ۔بلکہ ضروری ہے کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر ہو یا کوئی محرم مرد۔اگر کوئی محرم نہ ملے تو جب تک یہ صورت رہے اس پر حج فرض نہیں ہے،کیونکہ اس کے لیے شرعی اعتبار سے ایک لازمی شرط مفقود ہے،اور اللہ عزوجل فرماتا ہے: وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (آل عمران:3؍97) "اور لوگوں کے ذمے ہے کہ اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کریں،وہ جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہوں۔" اور اس خاتون کو شرعی استطاعت حاصل نہیں ہے یعنی اس کا محرم نہیں ہے۔(مجلس افتاء) سوال:میرے محرم مرد رشتہ دار سب ہی اپنے اپنے کاموں میں اس طرح سے پھنسے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی سفر حج [1] صحیح مسلم،کتاب الحج،باب حجۃ النبی،حدیث:1218وسنن ابی داود،کتاب المناسک فی افراد الحج،حدیث:1790سنن الترمذی،کتاب الحج،باب العمرۃ ا واحبۃھی ام لا،حدیث:932