کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 370
"جس نے نذر مانی ہو کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا،اسے چاہیے کہ اللہ کی اطاعت (عبادت) کرے،اور جس نے یہ نذر مانی ہو کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو اسے معصیت کا کام نہیں کرنا چاہیے ۔"[1] احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے نذر مان لی کہ وہ بوانہ مقام پر ایک اونٹ ذبح کرے گا،پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا: "کیا اس جگہ جاہلیت کا کوئی بت تو نہ تھا جس کی عبادت کی جاتی رہی ہو؟ کہا کہ نہیں۔آپ نے پوچھا:کیا یہ جگہ اہل جاہلیت کی کسی عید کا مقام تو نہ تھی؟ کہا گیا۔نہیں،تب آپ نے فرمایا:اپنی نذر پوری کر لو،بلاشبہ ایسی نذر کا کوئی پورا کرنا نہیں ہے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو،اور نہ اس چیز میں جس کا ابن آدم مالک نہ ہو۔"[2] اور اس سوال میں جو پوچھا گیا ہے کہ عورت نے سال بھر روزے رکھنے کی نذر مانی ہے،تو اس کا جواب یہ ہے کہ سال بھر مسلسل روزے رکھنا "صیام دہر" کی قسم سے ہے یعنی یہ زمانہ بھر روزے رکھنا ہے اور صیام دہر مکروہ اور ناجائز عمل ہے۔صحیحین میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے زمانہ بھر روزے رکھے،اس نے نہ روزے رکھے نہ افطار کیا۔"[3] اور اس میں شک نہیں کہ کسی مکروہ عبادت کو عمل میں لانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے،لہذا ایسی نذر کا پورا کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگر کوئی ایسی نذر مان لے جو مکروہ اور ناجائز قسم کی عبادت ہو،مثلا ہر رات کا کامل قیام،یا ہر ہر دن کا مسلسل روزہ وغیرہ تو ایسی نذر کا پورا کرنا درست نہیں ہے۔ لہذا اس عورت کو اسے اپنی قسم کا کفارہ دینا چاہیے یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلائے،ہر مسکین کے لیے آدھا صاع (سوا کلو یا ڈیڑھ کلو) کھجور وغیرہ ہونی چاہیے۔ یعنی طعام ایسا ہو جو علاقے کی اکثریت استعمال کرتی ہو۔اگر
[1] صحیح بخاری،کتاب الایمان والنذر،باب النذر فی الطاعۃ،حدیث:6696 و سنن ابی داود،کتاب الایمان والنذر،باب النذر فی المعصیۃ،حدیث:3389 و سنن الترمذی،کتاب النذور والایمان،باب من نذر ان یطیع اللّٰه فلیطعہ،حدیث:1526 [2] سنن ابی داود،کتاب الایمان والنذور،باب ما یومر من خاء النذر،حدیث:3313 المعجم الکبیر للطبرانی:حدیث:1341 [3] صحیح مسلم،کتاب الصیام،باب استحباب ثلاثۃ ایام من کل شھر۔۔،حدیث:1162 و سنن ابی داود،کتاب الصیام،باب فی صوم الدھر تطوعا،حدیث:2425 فضیلۃ الشیخ نے فرمایا:کہ یہ روایت صحیحین میں ہے جبکہ صحیح مسلم سے تو بعینہ الفاظ ملتے ہیں البتہ صحیح بخاری میں یہ الفاظ کہ "نہ اس نے افطار کیا' مجھے نہیں ملے ،البتہ "نہ اس نے روزہ رکھا" کے الفاظ صحیح بخاری میں ضرور موجود ہیں۔ دیکھیے:صحیح بخاری،کتاب الصوم،باب صوم داود علیہ السلام،حدیث:1878(عاصم)