کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 337
اعتراض ہو تو اس کے مال میں سے صدقہ کرنا جائز نہیں ہو گا ۔(مجلس افتاء) سوال:اس بارے میں کیا حکم ہے کہ بیوی اپنے گھر کے اخراجات میں سے کچھ چھپا لے یا بچا لے (پس اندازہ کر لے) اور اپنی ذات پر یا گھر کی دوسری ضروریات پر خرچ کر دے جبکہ شوہر کو اس کا علم نہ ہو؟ اور اگر وہ اس کے مال میں سے کچھ اپنے خاندان کو دے دیتی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ جواب:بیوی اپنے گھر کے اخراجات میں سے کچھ چھپا کر اپنے خویش و اقارب کو دے تو اگر دی گئی چیز یا مال معمولی ہو،جس کے متعلق عموما درگزر کیا جاتا ہے،یا وہ سمجھتی ہو کہ شوہر کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا تو اس کی اجازت ہے۔اور اگر وہ اپنی ذات کے لیے لیتی ہے اور شوہر بخیل ہو کہ وہ اسے اس مقصد کے لیے لازمی اخراجات نہ دیتا ہو،جبکہ وہ یہ دینے کا پابند ہے،تو بیوی کو اجازت ہے کہ وہ اسے بتائے بغیر مناسب حد تک لے سکتی ہے تاکہ اپنی ذات پر خرچ کر سکے،جیسا کہ صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند بنت عتبہ نے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول!میرا شوہر ابوسفیان بخیل آدمی ہے،مجھے وہ اس قدر نہیں دیتا ہے جو مجھے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو،سوائے اس کے جو میں اس کو بتائے بغیر لے لوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم اس قدر لے لیا کرو جو معروف (مناسب) انداز میں تجھے اور تیرے بچوں کے لیے کافی ہو۔" [1] (محمد بن عبدالمقصود) سوال:ایک آدمی کی کئی قرابت دار خواتین جو شادی شدہ ہیں مثلا چچا زاد،ماموں زاد،یا خالہ زاد وغیرہ اور ان کے شوہر صاحب وسعت نہیں ہیں،حتیٰ کہ ان عورتوں کی بعض خاص ضرورتیں بھی پوری نہیں ہوتی ہیں،تو کیا انہیں زکاۃ دینا جائز ہے؟ جواب:یہ بات واضح ہے کہ زکاۃ کے مستحق فقراء اور مسکین لوگ ہوتے ہیں۔اور یہ عورتیں جن کے متعلق سوال کیا گیا ہے،ضروری ہے کہ ان کے حالات جانے جائیں۔اگر ان عورتوں کی خاص ضرورتوں سے مراد ان کا کھانا پینا اور لباس ہے اور ان کے شوہر یہ لازمی اخراجات نہیں دے سکتے ہیں تو بلاشبہ انہیں زکاۃ دی جا سکتی ہے۔اور اگر لازمی اخراجات سے مراد زیورات حاصل کرنا ہے،تو اس مقصد کے لیے انہیں زکاۃ نہیں دی جا سکتی۔(مجلس افتاء) سوال:ایک عورت کا حق مہر تین ہزار ریال ایک مدت تک اسے نہیں دیا گیا،اور اب وہ کہتی ہے کہ اگر میں اس سب مدت کی زکاۃ دوں تو یہ مال بہت جلد ختم ہو جائے گا ۔۔تو اس صورت میں وہ کیا کرے؟ جواب:اگر شوہر فقیر اور تنگ دست ہو تو اس صورت میں بیوی پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ شوہر کے ذمے حق [1] صحیح بخاری،کتاب النفقات،باب اذا لم ینفق الرجل فللمراۃ ان تاخذ۔۔،حدیث :5364(دارالسلام)و صحیح مسلم،کتاب الاقضیۃ،باب قضیۃ ھند،حدیث:1714(بیروت)