کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 31
کس کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے؟ سو جو لوگ ایمان دار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان میں (فی الواقع) ترقی دی ہوتی ہے اور وہ خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔اور جن کے دلوں میں روگ ہے اس سورت نے ان میں ان کی (سابقہ) گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مر گئے۔" اور صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں آیا ہے (جو آپ نے ایک بار خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا) کہ "میں نے تم عورتوں سے بڑھ کر کسی کم عقل اور ناقص دین کو نہیں پایا جو ایک اچھے بھلے سمجھ دار آدمی کی عقل کو کھو دینے والی ہو۔"[1] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی کے عقل اوردین میں کمی بیشی بھی ہوتی ہے۔ ایمان میں زیادتی اور ترقی کے کئی اسباب ہیں: سبب اول:۔۔۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرنا۔جو انسان اللہ تعالیٰ سے جس قدر زیادہ آگاہ ہو گا،اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کی جسے زیادہ معرفت ہو گی،وہ یقینا ایمان میں بھی بڑھ کر ہو گا اور آپ جانتے ہیں کہ اہل علم حضرات عام لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات سے بہت زیادہ آگاہ ہوتے ہیں،جبکہ دوسرے اس درجہ کے نہیں ہوتے،اس لیے وہ قوی الایمان بھی ہوتے ہیں۔ سبب دوم:۔۔۔اللہ تعالیٰ کے نظامِ کائنات (نظام قدرت،آیات کونیہ) اور احکام شریعت (آیات شرعیہ) میں غوروفکر کرتے رہنا۔ انسان اس کائنات کے نظام اور اللہ کی قدرت اور اس کی مخلوقات میں جس قدر غوروفکر کرے گا اس کا ایمان بڑھتا چلا جائے گا۔جیسے کہ فرمایا گیا ہے: وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ﴿٢٠﴾وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴿٢١﴾(الذاریات 51؍20۔21) "اور اس زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں اور کیا بھلا تم اپنی جانوں میں نہیں دیکھتے ہو؟" اور اس معنی کی بہت سی آیات ہیں کہ اس کائنات میں تدبر کرنے سے انسان کا ایمان بڑھتا ہے،اس میں ترقی ہوتی ہے اور اضافہ ہوتا ہے۔ سبب سوم:۔۔۔اللہ کی اطاعت کے کام بہت زیادہ کرنا۔انسان کی اطاعت گزاری کے اعمال جس قدر [1] ۔ صحيح بخاري،كتاب الحيض،باب ترك الحائض الصوم،ح:298 و صحيح ابن خزيمة:54؍13،ح:5744