کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 191
کی دلیل یہ ہے کہ( ان الاصل بقاء ما كان على ما كان) "یعنی ہر چیز کو اپنی اس اصل پر سمجھنا چاہیے جس پر وہ بنیادی طور پر ہو۔" اور اس مسئلہ میں اصل "عدم" ہے یعنی اس نے مسح نہیں کیا۔اور حدیث میں ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ نماز کے دوران میں اسے شک ہو جاتا ہے کہ کچھ ہو گیا ہے (یعنی وضو ٹوٹ گیا ہے) تو آپ نے فرمایا کہ "وہ نماز سے نہ پھرے حتیٰ کہ آواز سنے یا بو محسوس کرے۔"[1] (محمد بن صالح عثیمین) سوال:جب مسح کی مدت پوری ہو جائے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ جواب:مسح کی مدت پوری ہو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں جو مدت متعین فرمائی ہے وہ مسح کرنے کی ہے نہ کہ وضو ٹوٹنے یا طہارت پورا کرنے کی۔لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جب مسح کی مدت پوری ہو گئی تو وضو بھی ٹوٹ گیا۔بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان میں مسح کرنے کی مدت بیان ہوئی ہے،یعنی اس کے بعد اب مسح کرنا جائز نہیں ہو گا۔ دیکھیے جب مدت پوری ہونے سے پہلے آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا ہے اور آپ باوضو ہو گئے ہیں تو ایک شرعی دلیل سے باوضو ہوئے ہیں،اور جو عمل شرعی دلیل سے ثابت ہوا ہو وہ کسی شرعی دلیل ہی سے ٹوٹ یا ختم ہو سکے گا۔اور یہاں (ہمارے اس سوال میں) وضو ٹوٹنے کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔اور اصل بات وضو کا قائم اور باقی رہنا ہے نہ کہ اس کا توٹنا۔اور وضو ٹوٹنے کے بارے میں بنیادی اصول وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے،کہ ایک آدمی نے کہا کہ اسے نماز کے دوران میں خیال ہوتا ہے کہ وہ کچھ محسوس کرتا ہے (یعنی وضو ٹوٹ گیا ہے) تو آپ نے فرمایا: "لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا"[2] "نہ پھرے حتیٰ کہ آواز سنے یا بُو پائے۔" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنا اسی شخص کے لیے واجب ٹھہرایا جسے اپنے وضو کے ٹوٹنے کا یقین ہو۔اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وضو واجب ہونے کا سبب مشکوک ہو (جیسے کہ مذکورہ بالا حدیث میں آیا ہے) یا [1] صحیح بخاری،کتاب الوضوء،باب من لم یر الوضوء الا من المخرجین من القبل والدبر،حدیث:175،و صحیح مسلم،کتاب الحیض،باب الدلیل علی ان من تیقن الطھارۃ ثم شک فی الحدث،حدیث:361،و سنن ابی داود،کتاب الطھارۃ،باب اذا شک فی الحدث،حدیث:177 [2] صحیح بخاری،کتاب الوضوء،باب من لم یر الوضوء الا من المخرجین من القبل والدبر،حدیث:175،و صحیح مسلم،کتاب الحیض،باب الدلیل علی ان من تیقن الطھارۃ ثم شک فی الحدث،حدیث:361،و سنن ابی داود،کتاب الطھارۃ،باب اذا شک فی الحدث،حدیث:177