کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 186
ہونا [1]اور موزوں پر مسح کرنا۔[2] یہ چند متواتر احادیث ہیں۔" الغرض قرآن و حدیث کے ان دلائل کی روشنی میں موزوں پر مسح کرنا سنت ہے۔(محمد بن صالح عثیمین) سوال:کیا موزوں پر مسح کے مسئلے میں مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق ہے؟ جواب:اس مسئلے میں مردوں اور عورتوں کا کوئی فرق نہیں ہے۔اور یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جو احکام مردوں کے لیے ثابت ہیں وہی احکام عورتوں کے لیے بھی ہیں،اور جو احکام عورتوں کے لیے ثابت ہیں وہ مردوں کے لیے بھی ہیں مگر جہاں کسی دلیل سے ان میں فرق کیا گیا ہو تو فرق ہو گا ورنہ نہیں۔(محمد بن صالح عثیمین) سوال:موزوں (جرابوں) پر مسح کا کیا طریقہ ہے؟ جواب:موزوں پر مسح کا طریقہ یہی ہے کہ ہاتھ (گیلا کر کے) پاؤں کی انگلیوں کی طرف سے پنڈلی کی طرف لمبا کر کے پھیر لیا جائے،اور صرف موزے کے اوپر کی طرف سے۔اور دونوں ہاتھوں سے دونوں پاؤں پر اکٹھے ہی مسح کیا جائے،یعنی دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر،جیسے کہ کانوں کا مسح کیا جاتا ہے۔سنت سے اسی طرح ظاہر ہے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ ' فمسح عليهما '[3] کہ آپ نے دونوں پاؤں پر مسح کیا۔" انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "آپ نے دائیں پاؤں پر مسح کیا۔" الغرض ظاہر سنت یہی ہے۔ ہاں اگر بالفرض کسی کا ایک ہاتھ کام نہ کرتا ہو تو وہ پہلے دائیں پاؤں پر مسح کرے پھر بائیں پر،اور بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے دائیں پاؤں کا اور پھر دونوں ہاتھوں سے بائیں پاؤں کا مسح کرتے ہیں۔تو جہاں تک مجھے علم ہے اس طریقے کی کوئی اصل نہیں ہے۔علماء نے یہی بتایا ہے کہ دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں کا اور بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں کا مسح کرے۔مگر جس کیفیت سے بھی وہ موزے کے اوپر کی جانب ہاتھ پھیر لے تو اس کا مسح ہو جائے گا،لیکن جو طریقہ ہم نے عرض کیا ہے وہ افضل ہے۔(محمد بن صالح عثیمین) سوال:براہ مہربانی جرابوں پر مسح کا طریقہ ارشاد فرمایا جائے،کیا یہ دونوں ہاتھوں سے کیا جائے یا صرف دائیں ہاتھ سے،یا بائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر اور بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر ۔۔؟ جزاکم اللّٰہ خیرا [1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بہت بڑا حوض ہو گا۔ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ دیکھیے:صحیح بخاری،کتاب الرقاق،باب فی الحوض،حدیث:6579 و صحیح مسلم،کتاب الفضائل،باب اثبات حوض نبینا و صفاتہ،حدیث:2292 [2] موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں بھی متعدد روایات ہیں۔ بطور مثال دیکھیے:صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ،باب المسح علی الخفین،حدیث:274 و سنن الترمذی،کتاب الطھارۃ،باب المسح علی الخفین للمسافر والمقیم،حدیث:96 [3] صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ،باب المسح علی الخفین،حدیث:274