کتاب: احکام و مسائل خواتین کا انسائیکلوپیڈیا - صفحہ 116
اور طریقے ہیں جن کے ذریعے سے انہیں اسلام کی دعوت دی جا سکتی ہے۔مثلا تحریری طور پر یا دوسرے دنوں میں خطاب عام کے ذریعے سے یہ کام ہو سکتا ہے۔اس نظریے سے کہ انہیں اسلام کی دعوت دینا ہے ان کی عید میں شریک ہونا جائز نہیں ہے۔اور یہ بات بھی قطعا کوئی اصول اسلام یا فقہی قاعدہ نہیں ہے جیسے کہ آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اعلیٰ مقصد پیش نظر ہو تو ذریعہ اور وسیلہ کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔یہ ایک غیر شرعی اصول ہے۔اس سے بہت سے مسلمان متاثر ہوئے ہیں اور کئی غیر اسلامی اعمال کے مرتکب ہو رہے ہیں حالانکہ دعویٰ ان کا یہی ہوتا ہے کہ مصلحت اور اعلیٰ مقصد پیش نظر ہے۔ مثلا بہت سے لوگ عید میلاد النبی کی مجلسوں کو غنیمت جانتے اور ان میں شریک ہوتے ہیں،تقریریں وغیرہ بھی کرتے ہیں،حتیٰ کہ بعض سلفی حضرات بھی اسی سوچ کے تحت ان میں شریک ہوتے ہیں۔مگر ہم اسے جائز نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ اس طرح سے انسان ایک غیر شرعی عید میں شریک ہو جاتا ہے۔(محمد ناصر الدین الالبانی ) سوال: کیا تلاوت قرآن کے لیے اکٹھے ہونے کا اہتمام کرنا جائز ہے روزانہ ہو یا کبھی کبھی؟ جواب: اگر اس اکٹھے ہونے سے مقصد یہ ہو کہ جو لوگ قرآن کریم پڑھنا چاہتے ہیں (انہیں پڑھایا جائے اور) ان کو آسانی رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن اگر یہ نیت ہو کہ اس طرح اکٹھے مل کر عبادت کی جائے گی تو یہ جائز نہیں ہے۔(محمد ناصر الدین الالبانی ) سوال: مریض کے لیے پانی میں پھونک مارنے اور دم جھاڑ اور تعویذ گنڈے کا کیا حکم ہے کہ اس میں کسی قدر لعاب بھی شامل ہوتا ہے اور پھر وہ مریض کو پلایا جاتا ہے اور اس لعاب سے شفا حاصل کی جاتی ہے یا اس آیت قرآنی یا ذِکر وغیرہ سے جو زبان سے پڑھا جاتا ہے؟ جواب: اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ جائز ہے،بلکہ علماء نے اس کے استحباب کی تصریح کی ہے۔اور یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ائمہ محققین سے بصراحت ثابت ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی الجامع الصحیح میں فرماتے ہیں:" باب النفث فى الرقية " (یعنی دم کرتے ہوئے لعاب آمیز پھونک مارنا) اور پھر حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث لائے ہیں کہ "جب تم میں سے کوئی خواب میں ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہیے کہ جاگنے پر تین بار پھونک مارے اور اس کے شر سے تین بار اللہ کی پناہ طلب کرے،تو یہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔" [1] اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی ہے کہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں قل ھو اللّٰہ احد،قل اعوذ برب [1] صحيح بخارى،كتاب الطب،باب النفث فى الرقية،حديث 5415۔