کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 90
بھی ان کا یہ عمل شرک ہے۔ اس لیے ہر وہ شخص جسے یہ علم ہو جائے کہ فلاں کی بات دین سے متصادم ہے لیکن پھر بھی وہ دین سے متصادم باتوں کو دل سے لگاتا ہے انہی پر عمل پیرا ہوتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو نہیں مانتا تو وہ بھی انہی اہل کتاب کی طرح مشرک ہو گا۔ 2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ: ان کا نظریہ اور عقیدہ یہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں حلال چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں [1]لیکن پھر بھی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے جیسے کہ آج کل کچھ مسلمان گناہوں کا ارتکاب کر لیتے ہیں اور انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گناہ ہے، تو ان کا حکم بھی دیگر گناہگاروں جیسا ہو گا"[2] اسی طرح ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ کہتے ہیں : "کسی مشرک کی اطاعت کی وجہ سے کوئی مومن اسی وقت مشرک ہوتا ہے جب مشرک کی اطاعت اپنے عقیدے میں شامل کر لے، لیکن اگر صرف عملی طور پر مشرک کی بات مانے لیکن عقیدے میں مشرک کی اطاعت کو شامل نہ کرے بلکہ اس کا عقیدہ صحیح ہو تو پھر وہ صرف گناہگار ہے،خوب سمجھ لیں ! "[3] اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ استحلال کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے جائز ہونے کا عقیدہ رکھیں اور عقیدہ یا نظریہ بول کر بتلانے سے معلوم ہوتا ہے محض عمل سے نہیں چاہے عمل میں اصرار اور دوام ہی کیوں نہ پایا جائے، البتہ اگر کوئی عمل بذات خود کفر ہو مثلاً: بت کو سجدہ کرنا، قرآن مجید کی گستاخی کرنا، اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینے اور اسی طرح کے [1] یہاں مصنف نے عربی نسخے کی غلطی کی جانب اشارہ کیا ، تو ترجمہ اسی اعتبار سے کیا ہے جیسے انہوں نے رہنمائی کی ہے۔ مترجم [2] مجموع الفتاوی (7؍70) [3] تفسیر قرطبی (7؍78)