کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 84
اسی بات کا دعوی کرتے ہیں [یعنی وہ اجماع کے دعوے دار ہیں ]چنانچہ معاصر اہل علم اس مسئلے میں اپنے مخالفین کو مرجئ نہیں کہتے،بلکہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ مسئلہ کفریہ مسائل میں سے مختلف فیہ مسئلہ ہے، بالکل اسی طرح جیسے نماز چھوڑنے اور زکاۃ نہ دینے کی صورت میں کفر کے متعلق اختلاف ہے، اسی طرح خارجیوں کے حکم میں بھی اختلاف ہے، یہی وجہ ہے کہ ان مسائل کے جواب حاصل کرنے کے لیے یہ اہل علم فریق مخالف سے رجوع کرنے کی بات کرتے ہیں،جیسے کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس مسئلے میں شیخ ابن باز اور البانی رحمہم اللہ و دیگر سے رجوع کرنے کا کہتے تھے۔[1] یہی وجہ ہے کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس مسئلے میں اپنے موقف کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : "مجھے محسوس ہوتا ہے" اسی طرح " مجھے لگتا ہے کہ" یا اسی طرح کی دیگر عبارتیں استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں،شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے موقف پر جو اہل علم ہیں وہ بھی اسی طرح کی عبارتیں استعمال کرتے ہیں،اور یہ بات واضح ہے کہ ایسی عبارتیں اجماعی مسائل میں نہیں کہی جاتیں،یا متفقہ عقدی مسائل میں ان کا استعمال روا نہیں ہے۔ اس بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ: شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے شریعت مخالف قانون سازی کو مستقل کفر قرار نہیں دیا،بلکہ اسے اس بات کی دلیل قرار دیا ہے کہ حاکم وضعی قوانین کو شرعی قوانین پر ترجیح دے رہا ہے، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اور ان کے ہم موقف اہل علم کے نزدیک الحكم بغیر ما انزل اللّٰه کے مسئلے میں انسان اسی وقت کافر ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر وضعی قوانین کو افضل سمجھے یا وضعی قوانین سے فیصلے جائز سمجھے یا شرعی قوانین کا سرے سے انکار کر دے۔ اور یہی بات اہل [1] کویت سے جاری ہونے والے مجلہ "الفرقان" میں یہ چیز موجود ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اس مسئلے کے متعلق شیخ البانی رحمہ اللہ کا رسالہ اپنی مسجد میں شرح کے ساتھ طلبا کو پڑھایا بھی ہے اور پھر اسے شیخ ابن عثیمین کی تعلیقات کے ساتھ ابن باز رحمہ اللہ کی اجازت سے نشر بھی کیا گیا ہے، اس کا عنوان ہے: "فتنة التكفير"