کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 83
اسے اختیار حاصل ہے کہ وضعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرے یا شرعی قوانین کے مطابق،ساتھ میں اسے شرعی قوانین کے متعلق یہ بھی یقین ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے لیکن پھر بھی وہ ان کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو پھر یہ کفر اکبر ہے۔ البتہ اگر اسے شرعی قانون کا علم نہیں ہے یا اسے سمجھنے میں غلطی لگی ہے تو پھر اس کا حکم خطا کاروں والا ہوگا۔"[1] انہیں اس عبارت کو سمجھنے میں یہ غلطی لگی کہ ابن قیم رحمہ اللہ یہاں "اس مسئلے" کا کہہ کر یہ مراد لے رہے ہیں جب ایسے مسائل کی تعداد زیادہ ہو گی تو تب کفر اکبر بن جائے گا، حالانکہ یہ غلط ہے؛ کیونکہ ابن قیم رحمہ اللہ اس جگہ پر ایسے حاکم کا حکم بیان کر رہے ہیں جو بغیر ما انزل الله کے مطابق فیصلے صادر کرتا ہے حالانکہ اسے متعلقہ مسائل میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کا علم ہے،وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں سے نابلد نہیں ہے، انہوں نے یہ بات اس لیے کی کہ ایسا حاکم عمداً بغیر ما انزل اللّٰه کے مطابق فیصلے کر رہا ہے۔ ہماری اس ساری گفتگو کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی بھی اہل علم مکمل دستور کے وضعی ہونے پر کفر کا فتوی نہیں لگاتا، یا ہم اِن کفر کے فتوے لگانے والوں کو -نعوذ باللہ- گمراہ کہیں،یہ ہرگز مقصود نہیں ہے، ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ابتدا میں ذکر شدہ مسئلے میں تفریق کمزور ہے، نیز یہ تفریق اہل سنت کے اصولوں سے میل نہیں کھاتی، چنانچہ ایسی صورت حال میں یعنی جب کسی مسئلے کے متعلق تنازع پیدا ہو تو کتاب و سنت ہی حرفِ آخر قرار پاتے ہیں اور اجماعِ امت ہی آخری سہارا ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی شامل کریں کہ جو معاصر اہل علم مکمل طور پر قوانین وضعی ہونے کی صورت میں کفر کا فتوی دیتے ہیں انہوں نے اس مسئلے کو ایسے مسائل میں شامل نہیں کیا جن پر اجماع ہو چکا ہے اور اب اس کی مخالفت جائز نہیں ہے، معاصر خارجی [1] مدارج السالکین (1؍336)