کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 64
سے حکمران کی بیعت ہو جائے جن کی وجہ سے حکومتی امور اور نظام و انصرام ہاتھ میں آتے ہیں تو پھر وہ شخص لوگوں کا حاکم بن جاتا ہے"[1] اس بارے میں علمائے کرام کی گفتگو بہت زیادہ ہے جو کہ فقہ اور امور سلطنت چلانے کے احکامات بیان کرنے والی اور دیگر کتب میں پڑھی جا سکتی ہے۔ بیعت کئے بغیر جن لوگوں پر بیعت کی پاسداری لازمی ہوتی ہے ان میں وہ چند اہل حل و عقد بھی شامل ہیں جو جمہور اہل حل و عقد کے بیعت کرنے کے باوجود بھی بیعت نہ کریں،اس بارے میں گزر چکا ہے کہ امام نووی رحمہ اللہ نے اہل علم کا اتفاق نقل کیا ہے، آپ کہتے ہیں : " بیعت کے درست ہونے کے لیے تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ہر ایک کا بیعت کرنا شرط نہیں ہے، بلکہ تمام کے تمام اہل حل و عقد کا بھی بیعت کرنا شرط نہیں ہے، شرط صرف اتنی ہے کہ زیادہ سے زیادہ علمائے کرام،با اثر شخصیات اور بڑے لوگ بیعت کے لیے آسانی سے متحد ہو جائیں ۔"[2] اُبّی رحمہ اللہ کہتے ہیں : "البغی: یہ ہے کہ امیر، یا اس کے نائب کے خلاف عملاً یا حکماً بغاوت کی جائے۔ عملی بغاوت: یہ ہے کہ ایسا شخص بغاوت کرے جس نے حقیقت میں پہلے بیعت کی ہو؛ کیونکہ یہ شخص بیعت کر کے اس کی اطاعت میں شامل ہو ا پھر بغاوت کر کے مکر گیا۔ حکمی بغاوت: یہ ہے کہ ایسا شخص بغاوت کرے جس پر بیعت کی پاسداری بالواسطہ لازم ہوتی ہو، چاہے اس نے براہِ راست بیعت نہ بھی کی ہو؛ کیونکہ کسی کو امیر تسلیم کرنے کے لیے ہم یہ شرط نہیں لگاتے کہ ہر کوئی عملاً ان کی بیعت کرے، بلکہ اگر کچھ لوگ بھی بیعت کر لیں تو تب بھی وہ شخص امیر تصور ہو گا۔"[3] [1] منہاج السنہ (1؍526) [2] شرح مسلم، حدیث نمبر (1759) کی شرح کے تحت۔ [3] شرح مسلم از اُبّی رحمہ اللہ (3؍195)