کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 63
"مازری رحمہ اللہ کے مطابق: حکمران کی بیعت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اہل حل و عقد ان کی بیعت کر لیں،اس کے لیے تمام اہل حل و عقد کا بیعت کرنا ضروری نہیں ہے، اسی طرح ہر ایک فرد پر بھی ضروری نہیں ہے کہ حکمران کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر بیعت کرے، بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ ان کی اطاعت کرے اور ان کے احکامات سے تصادم مت اپنائے اور اتحاد کو سبوتاژ نہ کرے"[1] اہل حل و عقد سے مراد: علمائے کرام، معاشرے کی سر کردہ اور با اثر شخصیات ہیں،جن کے بیعت کرنے سے بیعت کا ہدف یعنی علاقے پر کنٹرول اور تسلط حاصل ہو، نیز "حل و عقد" کا معنی معاملات کھولنے اور باندھنے کا ہے۔[2] ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’رافضی یہ کہتا ہے کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ابو بکر خلیفہ اس طرح بنے تھے کہ عمر نے بیعت کی اور چار افراد نے اس پر اظہار رضا مندی کیا تھا۔‘‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ :یہ اہل سنت کے ائمہ کا موقف ہی نہیں ہے، اگر کچھ متکلمین یہ بات کرتے ہیں کہ خلافت و حکمرانی چار افراد کے بیعت کرنے سے قائم ہو جاتی ہے، جبکہ کچھ متکلمین تو دو افراد کی بیعت پر بھی امارت قائم ہونے کے قائل ہیں،کسی نے ایک بھی کہا ہے تو یہ سب اہل سنت کا موقف نہیں ہے۔ اہل سنت کے ہاں خلافت و امارت اس وقت قائم ہوتی ہے جب اس پر با اثر شخصیات اعتماد کا اظہار کر دیں،چنانچہ کوئی بھی اس وقت تک امیر نہیں بن سکتا جب تک ایسی با اثر شخصیات اس پر اظہار اعتماد نہ کریں جن کے اعتماد سے حکمرانی کا اصل ہدف حاصل ہوتا ہے، اور حکمرانی کا اصل ہدف تسلط اور کنٹرول سے حاصل ہوتا ہے، لہٰذا اگر ایسے افراد کی جانب [1] فتح الباری (7؍565) [2] کویتی فقہی موسوعہ، ناشر: وزارتِ اوقات کویت، مصطلح: اہل حل و عقد۔