کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 62
مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہے اور حکمرانوں کی خیر خواہی کرے۔ اور اسی طرح اس حدیث کے [عربی] الفاظ: "فإن دعوتهم تحيط من وراءَهم" یا اسے یوں پڑھیں : " هي من ورائهم محيطة" تو اہل علم کے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ: مسلمانوں کے کسی بھی خطے کے لوگ حکمران کے فوت ہو جانے پر اپنا ایک حکمران متفقہ طور پر چن لیتے ہیں اور اسے اپنا حاکم تصور کر لیتے ہیں تو اب جتنے بھی مسلمان اس خطے کے آس پاس رہتے ہیں سب کے لیے اسے اپنا حاکم تصور کرنا ضروری ہے، بشرطیکہ وہ فسق و فجور میں مشہور نہ ہو؛ کیونکہ اس صورت میں حاکم کی بیعت اور تابعداری کی دعوت قبول کرنا سب کے لیے لازمی ہے، کوئی بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔"[1] اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں : "بیعت کے درست ہونے کے لیے تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ہر ایک کا بیعت کرنا شرط نہیں ہے، بلکہ تمام کے تمام اہل حل و عقد کا بھی بیعت کرنا شرط نہیں ہے، شرط صرف اتنی ہے کہ زیادہ سے زیادہ علمائے کرام،با اثر شخصیات اور بڑے لوگ بیعت کے لیے آسانی سے متحد ہو جائیں ۔ اور حکمران کے بارے میں نکتہ چینی سے باز رہنے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ ہر شخص نے اس حاکم کے پاس آ کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ کر ہی بیعت کی ہو، بلکہ محض اہل حل و عقد ہی حکمران کی بیعت کر لیں اور اس کی اطاعت گزاری کا اعتراف کر لیں تو اب سب کے لیے حکمران کی اطاعت لازمی ہے، کوئی بھی اس اتفاق میں رخنے مت ڈالے اور اتحاد کو سبوتاژ نہ کرے"[2] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں : [1] التمہید (21؍277) [2] شرح مسلم حدیث نمبر: (1759)