کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 52
"اس مسئلے میں تمام احادیث بالکل واضح ہیں اور ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت سے روکنے میں صریح بھی ہیں "[1] نیز کتاب و سنت کو انفرادی موقف اور لوگوں کی آرا پر مقدم رکھنے کے متعلق دلائل بہت زیادہ ہیں،ان سب کو شمار کرنا بھی مشکل ہے، میں ان میں سے چند صرف یاد دہانی کے لیے ذکر کرتا ہوں : فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا﴾ [النساء: 59] ’’اے ایمان والو ! اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان حاکموں کی بھی جو تم میں سے ہوں ۔ پھر اگر کسی بات پر تمہارے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے تو اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو۔ یہی طریق کار بہتر اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے ۔‘‘ دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو مکمل طور پر اس سے اجتناب کرو، اور جب میں تمہیں کوئی کام کرنے کا کہوں تو پھر اپنی استطاعت کے مطابق اسے ادا کرو) [2] ابن عباس احادیث رسول کو مسترد کرنے والوں کے بارے میں کہتے ہیں : "مجھے تو یہ تباہ ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ! میں انہیں کہہ رہا ہوں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان اس طرح ہے" اور یہ اس کے مقابلے میں کہہ رہے ہیں کہ : "ابو بکر و عمر نے یوں کہا"[3] [1] شرح صحیح مسلم از اُبّی رحمہ اللہ (5؍196) [2] بخاری: (7288)، مسلم: (1337) نے اسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [3] مسند احمد: (1؍337)