کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 34
دوسری وجہ: جو شخص ہتھیار اٹھا کر اہل سنت و الجماعت کے عقیدے سے متصادم رائے کی جانب دعوت نہیں دیتا، جیسے کہ جنگ جمل[1]، صفین[2]، حرّہ[3]، جماجم[4] اور دیگر مواقع پر ہوا، بلکہ اس کا گمان یہ ہوتا ہے کہ ہتھیار اٹھانے سے مطلوبہ مثبت اہداف حاصل ہو جائیں گے تو یہ اس کی خام خیالی ہے، بلکہ پہلے سے زیادہ حالات خراب ہوتے ہیں،اور آخر میں جا کر نہیں وہ بات سمجھ میں آتی ہے جو شریعت شروع سے ہی انہیں سمجھا رہی ہے، ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اس نفس معاملہ میں شرعی نصوص کا ادراک نہیں ہوتا، یا ادراک تو ہوتا ہے لیکن اس کے ہاں ثابت شدہ نہیں ہوتیں،جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان نصوص کو منسوخ سمجھتے ہیں جیسے کہ ابن حزم [کچھ ایسی نصوص کو منسوخ سمجھتے تھے] اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان نصوص کی تاویل کرتے ہیں اور یہ چیز بہت سے مجتہدین میں پائی جاتی ہے۔" حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں : "خارجی دو قسم کے ہوتے ہیں : پہلی قسم: سیدنا علی کے خلاف بغاوت کرنے والے خارجی ہیں جیسے کہ نافع بن ازرق اور اسی طرح کے دیگر لوگ۔ دوسری قسم: جو محض حکمرانی کی چاہت میں باغی ہو گئے، اس میں کوئی نظریاتی [1] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے مطالبے میں رونما ہونے والی جنگ جو کہ 36 ہجری کو ہوئی اور یہ اسلام کی پہلی داخلی جنگ تھی۔ [2] سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان غیر ارادی طور پر شر انگیزوں کی جانب سے چھڑ جانے والی جنگ جو کہ 37 ہجری کو ہوئی اور یہ اسلامی تاریخ میں دوسری بڑی داخلی جنگ تھی۔ [3] اس سے مراد مدینہ نبویہ میں رونما ہونے والا واقعہ ہے جس میں یزید بن معاویہ کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے عبد اللہ بن حنظلہ کی بیعت کر لی تھی، یہ واقعہ 63 ہجری میں رونما ہوا۔ [4] اس سے مراد عراق میں رونما ہونے والا واقعہ ہے جس میں ابن اشعث کی جانب سے حجاج اور عبد الملک بن مروان کے خلاف سن 81 ہجری میں بغاوت ہوئی، جماجم اس جگہ کا نام ہے جہاں پر اس بغاوت کی آخری فیصلہ کن لڑائی ہوئی اور حجاج نے ابن اشعث کو شکست دی۔