کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 181
کی وجہ سے مظاہرین کے نمائندگان کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سڑکوں پر نکلنے والے مارچ اور مظاہرین اصلاح اور بہتری کا راستہ نہیں اپناتے، بلکہ کسی خرابی کی اصلاح کا طریقہ کار یہی ہے کہ خود جا کر متعلقہ لوگوں سے ملیں،ان کے ساتھ مل کر خط و کتابت کریں،ملکی صدر، سربراہ یا علاقے کے چوہدری سے اسی طرح تعامل کریں اس میں سختی اور شدت مت اپنائیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں تیرہ سال تک رہے آپ نے کبھی بھی مظاہرے اور مارچ کرنے کا راستہ نہیں اپنایا نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے مال و جان کو کوئی اندیشہ پہنچایا۔ یہ یقینی بات ہے کہ یہ انداز دعوت اور دعاۃ دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے پھلتی پھولتی دعوت کو نقصان پہنچتا ہے، حکومتی سطح پر ہر ممکن طریقے سے دعوتی سرگرمیوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں،حکومتی سطح پر ان اقدامات کا مقصد بھی خیر ہی ہوتا ہے لیکن حقیقت میں نقصان ہو جاتا ہے۔ اس لیے دعوت الی اللہ کا فریضہ اپنانے والے شخص کو بجائے راہِ دعوت میں رکاوٹوں کا باعث بننے کے رسولوں اور انبیائے کرام کے منہج پر گامزن رہنا چاہیے چاہے اس کے لیے کتنا ہی لمبا عرصہ انتظار کرنا پڑے، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ تعالیٰ ہی دینے والا ہے"[1] اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے ہڑتال کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: "یہ سوال مسلمان نوجوانوں کے لیے انتہائی حساس ہے؛ کیونکہ اپنا کاروبار ہو یا حکومتی ملازمت ہڑتال کرنے کے لیے کسی بھی صورت میں کوئی شرعی دلیل نہیں ہے، ہڑتال کرنے کی وجہ سے اس کے منفی اثرات کے مطابق نقصانات [1] مجموع فتاوی ابن باز (6؍525)