کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 180
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ کام نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ اس کام میں کوئی فائدہ نہیں ہے، اور اگر کسی کام کی ضرورت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بغیر رونما ہو تو پھر ایسے کام کی ضرورت مصلحت قرار پا سکتی ہے"[1] میں یہ کہتا ہوں کہ: یہی بات صحابہ کرام کے متعلق بھی ہے کہ اگر کسی کام کی ضرورت عہد صحابہ اور سلف میں موجود تھی لیکن پھر بھی اس کام کو نہیں کیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کے کرنے کا اب بھی فائدہ نہیں ہے۔ چنانچہ یہ بات تو واضح ہے کہ مظاہرے، مارچ، دھرنے اور ہڑتالوں وغیرہ کا سبب یا تو حاکم کی جانب سے ظلم ہوتا ہے یا حقوق کی تلافی ہوتی ہے یا قانون کو معطل قرار دینا یا اسی طرح کا کوئی اور ہدف باعث ہوتا ہے،اب چونکہ یہ سب ضروریات عہدِ سلف میں بھی پائی گئیں لیکن پھر بھی سلف کی جانب سے ایسے امور سامنے نہیں آئے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام کام شریعت میں شامل نہیں ہیں،ان امور سے اجتناب ہی سلف کا موقف ہے، تو اگر جن مقاصد کے لیے مظاہرے اور دھرنے وغیرہ دئیے جائیں وہی سنت سے متصادم ہوں بلکہ بدعتی اور ہوس پرستی پر مشتمل ہوں تو ان کا ممنوع ہونا بالاولی ثابت ہوگا۔ راسخ علمائے کرام کا بھی یہی فتوی ہے، چنانچہ: شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں : "حق بات قبول ہونے یا کرنے میں اسلوب کا بڑا عمل دخل ہے، چنانچہ اچھے اسلوب سے حق بات قبول کر لی جاتی ہے جب کہ شدت اور سختی سے حق بات رد ہو جاتی ہے، بلکہ سخت اسلوب سے ماحول مزید بگڑ جاتا ہے، باتوں باتوں سے معاملہ آگے نکل کر ہتھا پائی اور لڑائی جھگڑے تک بھی بات پہنچ جاتی ہے۔ اسی میں کچھ لوگوں کی طرف سے کیے جانے والے مظاہرے بھی شامل ہیں ان [1] اقتضاء الصراط المستقیم (1؍278)