کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 171
تیسرا مبحث: حکمرانوں پر عوام الناس کے سامنے بر ملا طعن و تشنیع مسلم معاشرے میں استحکام اور ٹھہراؤ دو بڑی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے: 1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت۔ 2۔ علمائے کرام اور اہل حل و عقد کی اطاعت۔ ان دونوں بنیادوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آیت میں ذکر تے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ﴾[النساء: 59] ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور حکمران کی بھی کرو۔‘‘ اسی طرح صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور تین چیزوں کو ناپسند کرتا ہے: پسندیدہ امور یہ ہیں کہ: تم صرف اسی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ، اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہ بندی میں مت پڑو۔ اور ناپسندیدہ امور یہ ہیں : قیل و قال کرنا[اڑتی پھرتی بے بنیاد باتیں کرنا]، کثرت سے سوال کرنا، اور مال ضائع کرنا) [1] امام مالک اور دیگر محدثین نے اس روایت کے الفاظ میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ: [1] صحیح مسلم (1715)