کتاب: خوارج کی حقیقت - صفحہ 101
انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ جب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے باغیوں سے ابتداء لڑائی کا حکم نہیں دیا تو حکمرانوں سے ابتداء قتال کرنے کا حکم کیسے ہو سکتا ہے؟!"[1] اسی طرح ایک اور مقام پر کہتے ہیں : "صاحب تسلط حکمران کے خلاف جو بھی بغاوت کرتا ہے اس کا نقصان فائدے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، مثلاً: مدینہ میں یزید کے خلاف بغاوت کرنے والے، عراق میں عبدالملک کے خلاف بغاوت کرنے والے، یزید بن عبدالملک کے خلاف خراسان میں ابن المہلب کی بغاوت، خراسان ہی میں ابو مسلم خراسانی[2]کی بغاوت اور مدینہ و بصرہ دونوں شہروں میں ابو جعفر المنصور کے خلاف بغاوت کرنے والے لوگوں کار آخر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو شکست خوردہ ہو جاتے ہیں یا پھر بغاوت میں کامیاب ہو بھی جائیں تو جلد ہی ان کا بھی دھڑن تختہ ہو جاتا ہے، لہٰذا ہر دو صورت میں نتائج ان کے خلاف ہی برآمد ہوتے ہیں ؛ کیونکہ عبداللہ بن علی[3]اور ابو مسلم دونوں نے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو قتل کیا،لیکن ان دونوں کو خلیفہ ابو جعفر منصور نے قتل کروا دیا، جبکہ اہل حرّہ،ابن اشعث کے رفقا، اور ابن المہلب کے ساتھی اور دیگر باغی سب کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے اپنی بغاوت کے ذریعے نہ تو اقامتِ دین کا کام کیا اور نہ ہی ان کی دنیا بن سکی۔ اور اللہ تعالیٰ کسی بھی ایسے کام کا حکم نہیں دیتا جس میں دینی یا دنیاوی کوئی بھی فائدہ نہ ہو، چاہے ایسے بے فائدہ کام کرنے والا اللہ تعالیٰ کے ولیوں میں سے انتہائی [1] منہاج السنہ (3؍391) [2] عباسی خلافت کے قیام میں ابو مسلم خراسانی کا کلیدی کردار تھا، اسی لیے انہیں صاحب الدعوہ کا لقب دیا گیا، انہوں نے عباسی خلیفہ کی بیعت کیلیے لوگوں کو تیار کیا تھا، امام طبری اپنی تاریخ میں ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے 6 لاکھ مسلمانوں کو باندھ کر قتل کیا تھا، معرکوں میں قتل ہونے والے لوگوں کی تعداد الگ ہے۔ [3] ابو العباس سفاح اور ابو جعفر منصور کا چچا، اہل دمشق میں سے 50 ہزار لوگوں کا قاتل۔