کتاب: ختم نبوت - صفحہ 78
یہ اس زمانے میں اور بعد کے زمانوں میں تواتر سے ثابت ہے۔ اسی لئے صحابہ نے مسیلمہ اور اسود عنسی کی تکفیر میں ذرا بھی توقف سے کام نہیں لیا، یہ ضروریات دین سے ہے۔ جو اس کا انکار کرے گا کافر ہوگا، بھلے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کا نبی مانتا ہو۔ اجماع کی یہ قسم علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے، جیسا کہ ہمارے تمام علما نے بتایا ہے۔‘‘ (التّحریر والتّنویر : 22/45) 11. علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) لکھتے ہیں : إِنَّہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ الرُّسُلِ وَالْـأَنْبِیَائِ وَشَرِیعَتُہٗ بَاقِیَۃٌ إِلٰی آخِرِ الدُّنْیَا وَہٰذَا أَمْرٌ مُّجْمَعٌ عَلَیْہِ وَأَمَّا نُزُولُ عِیسٰی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آخِرَ الزَّمَانِ، فَہُوَ یَنْزِلُ مُتَّبِعًا لِّشَرِیْعَتِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرَ مَبْعُوثٍ ۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الرسل والنبیین ہیں اور آپ کی شریعت دنیا کے اختتام تک باقی رہے گی، اس پر اجماع ہے۔ سیدنا عیسی علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے متبع بن کر نازل ہوں گے، نہ کہ مبعوث ہو کر۔‘‘ (التّنویر شرح الجامع الصّغیر : 3/466) 12. علامہ ابن باز رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں : لَمَّا کَانَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ خَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ رَسُولًا عَامًّا إِلٰی جَمِیعِ الثَّقَلَینِ اقْتَضَتْ حِکْمَۃُ اللّٰہِ سُبْحَانَہٗ أَنْ تَکُونَ شَرِیعَتُہٗ أَوْفَی الشَّرَائِعِ وَأَکْمَلَہَا وَأَتَمَّہَا انْتِطَامًا لِّمَصَالِحِ