کتاب: ختم نبوت - صفحہ 67
الْخِنْزِیرَ، وَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ، وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ، وَیَأْتَمَّ بِإِمَامِ ہٰذِہِ الْـأُمَّۃِ ۔ ’’مذکورہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ (قرب قیامت) عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے، یہ اہل سنت کا مذہب ہے۔ اس کی دلیل فرمان باری تعالیٰ : ﴿بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ إِلَیہِ﴾’’بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اُٹھا لیا۔‘‘ اور کئی صحیح احادیث ہیں ۔ یہ عقلی طور پر بھی محال نہیں ہے اور نہ عقل اسے رد کرتی ہے، لہٰذا اس پر ایمان لانا اور ان تمام اُمور کی تصدیق کرنا واجب ہے۔ اس بارے میں اہل بدعت کے قول کی کوئی حیثیت نہیں ۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی نفی پر ان کا آیت مبارکہ : ﴿وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ﴾’’(محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) خاتم النبیین ہیں ۔‘‘، اسی طرح حدیث مبارک : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔‘‘ اور اس بارے میں مسلمانوں کا اجماع ، نیز اس پر اجماع کہ ہمارے شریعت منسوخ نہیں ہو سکتی، سے استدلال درست نہیں ۔یہ تو قیامت تک ثابت شدہ اُمور ہیں ، ہم بھی اس کا عقیدہ رکھتے ہیں ، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مقصد یہ ہو گا کہ آپ علیہ السلام دجال کو قتل کریں ، شریعت محمدیہ علی صاحبہا والصلوٰۃ والسلام کا احیا کریں ، احکام شریعت پر عمل کریں ، شریعت محمدیہ کے مطابق عدل قائم کریں ، کفار پر غلبہ پائیں ، عیسائیوں پر ان کی گمراہیاں عیاں کریں اوران کی بہتان بازیوں سے اعلان برأت کریں ۔ پس آپ علیہ السلام خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور امت محمدیہ کے امام (مہدی) کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔‘‘ (المُفھم لما أشکل من تلخیص کتاب مسلم : 7/292)