کتاب: ختم نبوت - صفحہ 45
پوچھیں گے، ایک برتن میں سامان رکھ کر اس پہ مہر لگا دی گئی ہو، تو کیا مہر توڑے بغیر برتن کے سامان تک رسائی ممکن ہے؟ لوگ کہیں گے ، نہیں ، تو عیسی علیہ السلام فرمائیں گے : إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِیِّینَ ۔ ’’یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں ۔‘‘ (مسند الإمام أحمد : 3/248، وسندہٗ صحیحٌ) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بڑی پیاری مثال دے کر بات سمجھائی ہے کہ جس طرح مہر توڑے بغیر سامان کا حصول ممکن نہیں ، اسی طرح اس کام کے لیے مہر والی ہستی کے پاس جانا ہو گا، جو کہ آخری نبی ہیں ۔ دوسری روایت میں ہے : یَأْتُونَ مُحَمَّدًا فَیَقُولُونَ : یَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ وَخَاتِمُ الْـأَنْبِیَائِ ۔ ’’لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے اور کہیں گے : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیا ہیں ۔‘‘ (صحیح البخاري : 4712، صحیح مسلم : 194) 28. سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : أَبَیْتُمْ، فَوَاللّٰہِ! إِنِّي لَـأَنَا الْحَاشِرُ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَأَنَا النَّبِيُّ الْمُصْطَفٰی، آمَنْتُمْ أَوْ کَذَبْتُمْ ۔ ’’یہودیو! تم نے (لا الٰہ الا اللہ کا) انکار کیا ہے۔ اللہ کی قسم! تم مجھ پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، میں حاشر ہوں ، (یعنی میرے بعد حشر برپا ہو گا)، میں عاقب ہوں (میرے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا)، میں نبی مصطفی ہوں ۔‘‘ (مسند الإمام أحمد : 6/25، ح : 24484، وسندہٗ حسنٌ)