کتاب: ختم نبوت - صفحہ 41
’’یعنی عنقریب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ (نبوت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔) کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں ، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (حاشیۃ السّندي علی ابن ماجہ : 2/448) 23. ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لَا نُبُوَّۃَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشَّرَاتِ، قَالَ : قِیلَ : وَمَا الْمُبَشَّرَاتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟، قَالَ : الرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ، أَوْ قَالَ : الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ ۔ ’’میرے بعد نبوت باقی نہیں رہی،صرف مبشرات باقی ہیں ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول! مبشرات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : اچھے خواب، یا فرمایا : نیک خواب۔‘‘ (مسند الإمام أحمد : 5/454، وسندہٗ صحیحٌ) ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔صرف مبشرات باقی رہیں گے، مبشرات مسلمانوں کے نیک خوابوں کو کہتے ہیں ۔ 24. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لَقَدْ کَانَ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ مِّنْ بَّنِي إِسْرَائِیلَ رِجَالٌ، یُکَلَّمُونَ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَّکُونُوا أَنْبِیَائَ، فَإِنْ یَّکُنْ مِّنْ أُمَّتِي مِنْہُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ ۔ ’’بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں، جن سے کلام کیا جاتا تھا، حالانکہ وہ نبی نہ تھے۔ اگر میری امت میں سے ایسا کوئی ہوا، تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے۔‘‘ (صحیح البخاري : 3689) ایک روایت کے الفاظ ہیں :