کتاب: ختم نبوت - صفحہ 191
وَلَدَہٗ مِنْ صُلْبِہٖ یَقْتَضِي أَنْ یَّکُونَ لُبَّ قَلْبِہٖ کَمَا یُقَالُ : الْوَلَدُ سِرُّ أَبِیہِ وَلَوْ عَاشَ وَبَلَغَ أَرْبَعِینَ وَصَارَ نَبِیًّا لَّزِمَ أَنْ لَّا یَکُونَ نَبِیُّنَا خَاتَمَ النَّبِیِّینَ ۔ ’’اس میں اشارہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا اس عمر تک زندہ نہیں رہے گا کہ حد بلوغ کو پہنچ جائے، کیوں کہ صلبی اولاد دل کا جوہر ہوتی ہے، محاورہ ہے کہ بیٹا باپ کا جوہر ہوتا ہے، تو اگر ابراہیم ابن رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہتے اور چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتے اور نبی بن جاتے، تو لازم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہ رہتے۔‘‘ وہ یہاں ایک بات فرض کر رہے ہیں کہ اگر یوں ہوتا، تو یوں ہوتا، مگر چوں کہ یہ سب کچھ نہیں ہوا، لہٰذا صرف سمجھانے کی غرض سے یہ بات فرض کر لی گئی ہے۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿لَوْ کَانَ فِیہِمَا آلِہَۃٌ إِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا﴾(الأنبیاء : 22) ’’اگر زمین وآسمان میں اللہ کے سوا کئی الہ ہوتے، تو ان میں فساد ہوتا۔‘‘ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اور الہ ہیں ، بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگر ہوتے، تو یوں ہوتا، مگر اور الٰہ موجود ہی نہیں ہیں ، لہٰذا ایسا نہیں ہے۔ ملا علی قاری اسی سیاق میں لکھتے ہیں : لَوْ عَاشَ إِبْرَاہِیمُ وَصَارَ نَبِیًّا وَّکَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِیًّا لَکَانَا مِنْ أَتْبَاعِہٖ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کَعِیسٰی وَالْخَضِرِ وَإِلْیَاسَ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ فَلَا یُنَاقِضُ قَوْلَہٗ تَعَالٰی : ﴿وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ﴾ إِذِ