کتاب: ختم نبوت - صفحہ 184
بِہٰذَیْنِ النَّعْتَیْنِ، وَذٰلِکَ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصِیرُ بِالْوَحْيِ عَالِمًا، وَّیَلْزَمُ مِنْ وُجُودِ الْعِلْمِ الْإِلٰہِيِّ الْعَمَلُ الصَّالِحُّ، فَصَدَقَ بِہٰذَا الْاِعْتِبَارِ قَوْلُہُ : النُّبُوَّۃُ الْعِلْمُ اللَّدُنِّيُّ وَالْعَمَلُ الْمُقَرِّبُ إِلَی اللّٰہِ، فَالنُّبُوَّۃُ إِذَا تُفَسَّرُ بِوُجُودِ ہٰذَیْنِ الْوَصْفَیْنِ الْکَامِلَیْنِ، وَلَا سَبِیلَ إِلٰی تَحْصِیلِ ہٰذَیْنِ الْوَصْفَیْنِ بِکَمَالِہِمَا إِلَّا بِالْوَحْيِ الْإِلٰہِيِّ، وَہُوَ عِلْمٌ یَّقِینِيٌّ مَّا فِیہِ ظَنٌّ، وَعِلْمُ غَیْرِ الْـأَنْبِیَائِ مِنْہُ یَقِینِيٌّ وَّأَکْثَرُہٗ ظَنِّيٌّ ثُمَّ النُّبُوَّۃُ مُلَازِمَۃٌ لِّلْعِصْمَۃِ وَلَا عِصْمَۃَ لِغَیْرِہِمْ، وَلَوْ بَلَغَ فِي الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ مَا بَلَغَ وَالْخَبَرُ عَنِ الشَّيْئِ یُصَدَّقُ بِبَعْضِ أَرْکَانِہٖ وَأَہَمِّ مَقَاصِدِہٖ، غَیْرَ أَنَّا لَا نُسَوِّغُ لِأَحَدٍ إِطْلَاقُ ہٰذَا إِلَّا بِقَرِینَۃٍ، کَقَوْلِہٖ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ : الْحَجَّ عَرَفَۃٌ، وَإِنْ کَانَ عَنَی الْحَصْرَ، أَيْ لَیْسَ شَيْئٌ إِلَّا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ، فَہٰذِہٖ زَنْدَقَۃٌ وَّفَلْسَفَۃٌ ۔ ’’ان کی اس بات میں ایک جائز احتمال موجود ہے، اگر انہوں نے وہ مراد لیا ہو تودرست ہے، مطلب یہ کہ علم اور عمل نبوت کے ستون ہیں ۔ اللہ جسے نبوت دیتا ہے، اسے علم و عمل بھی دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے ساتھ عالم ہو گئے تھے اور علم الٰہی کے وجود کا لازمہ عمل صالح ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے امام ابن حبان رحمہ اللہ کی یہ بات سچ ہو گی کہ نبوت علم لدنی اور قرب الٰہی کا ذریعہ بننے