کتاب: ختم نبوت - صفحہ 169
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں : لَمَّا شَبَّہَہٗ فِي تَخْلِیفِہٖ إِیَّاہُ بِہَارُونَ حِینَ خَلَّفَہٗ مُوسٰی، خَافَ أَنْ یَّتَأَوَّلَ مُتَأَوِّلٌ فَیَدَّعِيَ النُّبُوَّۃَ لِعَلِيٍّ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ : غَیْرَ أَنَّہٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَإِنَّمَا کَانَتْ خِلَافَۃُ ہَارُونَ فِي وَقْتٍ خَاصٍّ فِي حَیَاۃِ مُوسٰی ۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنانے کی تشبیہ سیدنا موسی علیہ السلام کے سیدنا ہارون علیہ السلام کو قائم مقام بنانے سے دی، تو یہ شبہ پیدا ہوا کہ کوئی اس فرمان سے دلیل لے کر نبوت کا دعوی ہی نہ کر دے، تو فرمایا کہ ہاں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ہارون علیہ السلام کی خلافت موسی علیہ السلام کی زندگی کے ایک خاص حصے میں تھی۔‘‘ (کشف المُشکِل : 1/236) ایک شبہ اور اس کا ازالہ : اس حدیث کے معنی میں ایک شبہ وارد کیا گیا ہے، ملاحظہ ہو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یَا عَلِيُّ أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُونَ مِنِّي کَہَارُونَ مِنْ مُّوسٰی غَیْرَ أَنَّکَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ؟ قَالَ : بَلٰی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ : فَإِنَّہٗ کَذٰلِکَ ۔ ’’علی! کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ میری اور آپ کی مثال موسی و ہارونi والی ہو؟ البتہ آپ نبی نہیں ہیں ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہا : اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بات ہی یہی ہے۔‘‘ (طَبَقات ابن سعد : 3/25)