کتاب: ختم نبوت - صفحہ 15
3. اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِیمًا﴾ (الأحزاب : 40)
’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ، لیکن اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔‘‘
مفسر ابن عطیہ رحمہ اللہ (541ھ) فرماتے ہیں :
ہٰذِہِ الْـأَلْفَاظُ عِنْدَ جَمَاعَۃِ عُلَمَائِ الْـأُمَّۃِ خَلَفًا وَّسَلَفًا مُّتَلَقَّاۃٌ عَلَی الْعُمُومِ التَّامِّ مُقْتَضِیَۃٌ نَّصًّا أَنَّہٗ لَا نَبِيَّ بَعْدَہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
’’علمائے سلف وخلف کے نزدیک یہ الفاظ عام ہیں اور واضح نص ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘(تفسیر ابن عطیۃ : 4/388)
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (310ھ) لکھتے ہیں :
خَاتَمُ النَّبِیِّینَ، الَّذِي خَتَمَ النُّبُوَّۃَ فَطُبِعَ عَلَیْہَا، فَلَا تُفْتَحُ لِأَحَدٍ بَّعْدَہٗ إِلَی قِیَامِ السَّاعَۃِ ۔
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النیین ہیں ، آپ نے نبوت ختم کر دی ، اس پر مہر لگا دی گئی ہے، اب قیامت تک کسی کے لئے کھولی نہیں جائے گی۔‘‘
(تفسیر الطّبري : 19/121)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں :