کتاب: ختم نبوت - صفحہ 143
فَأَنَا اللَّبِنَۃُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ ۔ ’’کسی نے ایک حسین وجمیل گھر بنایا، لیکن ایک کھدرے میں اینٹ بھر جگہ چھوڑ دی، لوگ اس عمارت کے اردگرد گھومتے ، اس کی عمدگی پر حیرت کا اظہار کرتے اور کہتے کہ اینٹ کی جگہ پُر کیوں نہ کر دی گئی؟یہی مثال قصرنبوت کی ہے، اس کی آخری اینٹ میں ہوں او ر پہلی اینٹیں سابقہ انبیا ہیں ، میرے بعد نبوت کا سلسلہ ختم اور میں خاتم النبیین ہوں ۔‘‘ (صحیح البخاري : 3535، صحیح مسلم : 22/2286) اس حدیث کا ختم نبوت سے گہرا تعلق ہے،یہاں قَبْلِي فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کردیا کہ جتنے بھی انبیا آئے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے ہیں ، حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔تو یہ تمثیل مطلق قصر نبوت کے لئے ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے نبوت کی عمارت مکمل ہوگئی ہے، اب کسی نئے نبی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں : فُسِّرَ فِي الْحَدِیثِ الْمُرَادُ بِہٰذَا الْمَثَلِ، وَأَنَّ الْـأَمْرَ بِہٖ تَمَّ وَالْإِنْذَارُ بِہٖ خُتِمَ ۔ ’’حدیث میں مثال دے کر سمجھایا گیا ہے کہ نبوت کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مکمل ہو چکا، آپ کے بعد ڈرانے والا کوئی نہیں آئے گا۔‘‘ (إکمال المُعلِم : 7/255) علامہ ابن ہبیرہ رحمہ اللہ (560ھ) لکھتے ہیں :