کتاب: ختم نبوت - صفحہ 131
’’میرے کئی نام ہیں ، میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں ، جس کے ذریعے اللہ نے کفر کو مٹایا، میں حاشر ہوں ، میرے بعد حشر قائم ہو گا، میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ (المُعجَم الکبیر للطّبراني : 1523، وسندہٗ حسنٌ) سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ لِي أَسْمَائً أَنَا مُحَمَّدُ وَأَحْمَدُ وَالْعَاقِبُ وَالْمَاحِي وَالْحَاشِرُ الَّذِي یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی عَقِبِي، وَالْعَاقِبُ آخِرُ الْـأَنْبِیَائِ ۔ ’’میرے کئی نام ہیں ، میں محمد، احمد، عاقب، ماحی، حاشر( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں ، حاشر اسے کہتے ہیں ، جس کے بعد حشر قائم ہو اور عاقب کا معنی آخری نبی ہے۔‘‘ (مسند البزّار : 3413، وسندہٗ صحیحٌ) امام بزار رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح ‘‘کہا ہے۔ تنبیہ : بعض احادیث میں اَلْعَاقِبُ، الَّذِي لَا نَبِيَّ بَعْدَہٗ کے الفاظ ہیں ، جن کے بارے میں بعض علما کا کہنا ہے کہ یہ امام زہری رحمہ اللہ کا ادراج ہے۔ درست بات یہی ہے کہ عاقب کی تفسیر مرفوعا بھی ثابت ہے اور شاگرد کے پوچھنے پر امام زہری رحمہ اللہ نے بھی کر دی ہے، کیوں کہ مذکورہ بالا حدیث میں صراحت موجود ہے کہ یہ الفاظ مرفوع ہیں ۔ مذکوہ بالا احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام عاقب بیان ہوا ہے، اس کا معنی کیا ہے، ملاحظہ ہو :