کتاب: کراچی کا عثمانی مذہب اور اس کی حقیقت - صفحہ 87
قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ کو ساتھ لیکر سرہند گئے۔ وہاں انہوں نے مجدد الف ثانی رحمہ اللہ سے راز و نیاز کی باتیں کیں۔ پھر صاحبِ قبر نے قاضی صاحب کا بھی ہاتھ پکڑا اور ان سے بھی گفتگو کی۔ مولانا سوہدروی مرحوم رحمہ اللہ کے خیالات سننے پڑھنے کا موقع ملتا رہا ہے زندگی میں تو کبھی ان سے ایسی باتیں نہیں سنی تھیں نہ جانے یہ لطیفوں والی کتاب انہوں نے کب لکھ دی۔ مولانا کے پوتے مولانا محمد ادریس صاحب خطیب جامع مسجد اہلحدیث پٹیل روڈ کوئٹہ سے بندہ نے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے فرمایا:۔ ’’میرا خیال ہے کہ اسے حضرت دادا جان مولانا عبدالمجید صاحب سوہدروی کے نام سے معاون مدیر حکیم سید محمود گیلانی یا کسی اور نے شائع کیا ہو گا اور دادا جان مرحوم نے اسے معمولی جان کر کہ چند ورقہ ہے اس کی پروف ریڈنگ نہ کی ہو گی۔‘‘ اور اگر یہ واقعتا ان کی تحریر ہے تو گستاخی معاف پھر یہ صحیح نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مولانا نے صرف یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ولی اہلحدیثوں میں بھی ہوئے ہیں ادھر ادھر سے رطب دیا بس اکٹھا کر کے ایک مجموعہ شائع کر دیا ہے اور تحقیق نہ کی کہ یہ واقعات سچے بھی ہیں یا نہیں۔ بالفرض مذکورہ واقعہ میں صداقت کا کچھ شائبہ ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہاتھ اور وہ آواز ممکن ہے کسی جن بھوت کی ہو۔ کیونکہ منصور پوری صاحب رحمہ اللہ نے نہ تو مجدد صاحب رحمہ اللہ کا ہاتھ دیکھ رکھا تھا اور نہ ان کی آواز کو پہچانتے تھے تو انہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ مجدد سرہندی ہیں۔ پہنچانتے بھی ہوتے تو پھر بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ وہی ہیں۔