کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 285
کر سکتا؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے،اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو،تو تم ان کا شمار نہیں کر سکتے،بے شک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ کیا وہ ذات جس نے ان نعمتوں اور ان عجیب مخلوقات کو پیدا کیاہے اس جیسی ہو سکتی ہے جو ان میں سے کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتی؟؟۔ یہ بات قطعی طور پر معلوم ہے کہ بندوں میں سے کوئی فرد بھی اپنے کسی عضو یا کسی حاسہ کی بناوٹ و تخلیق کی نعمت کو شمار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا،چہ جائے کہ اپنے جسم کی ساری نعمتوں اور ہر وقت وہر لمحہ عطا ہونے والی مختلف انواع واقسام کی نعمتوں کا شمار کر سکے؟۔[1] کسی عقلمند کے لئے اس کے بعد اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ صرف اس اللہ کی عبادت کرے جس نے اپنے بندوں پر یہ نعمتیں نچھاور کی ہیں،اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کرے؛ کیونکہ وہی تنہا عبادت کا مستحق ہے،اس کی ذات پاک ہے۔واللہ اعلم وصلی اللّٰہ وسلم و بارک علی عبدہ ورسولہ محمد بن عبد اللّٰہ وعلی آلہ وأصحابہ ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین۔
[1] دیکھئے:فتح القدیر ۳/۱۵۴،۳/۱۱۰،وأضواء البیان،۳/۲۵۳۔