کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 284
وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ،وَأَلْقَیٰ فِيْ الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ وَأَنْھَاراً وَّسُبُلاً لَّعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ،وَعَلٰمٰتٍ وَّبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ،أَفَمَنْ یَّخْلُقُ کَمَنْ لَّا یَخْلُقُ أَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ،وَإِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَاتُحْصُوْھَا إِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾[1]
اور وہی وہ ذات ہے جس نے سمندر کو تمہارے بس میں کردیا کہ تم اس سے نکلا ہو اتازہ گوشت کھاؤاور اس میں سے اپنے پہننے کے لئے زیورات نکال سکو،اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں،اور اس لئے بھی کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور ہو سکتا ہے کہ تم اس کی شکر گذاری بھی کرو،اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے ہیں تاکہ تمہیں لے کر ہلے نہ،اور نہریں اور راہیں بنادیں،تا کہ تم منزل مقصود کو پہنچو،اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں،اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں،تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں
[1] سورۃ النحل: ۱۴ تا ۱۸،نیز دیکھئے:آیات ۳تا ۱۲۔