کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 282
وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔[1] ارشاد ہے: ﴿ذَلِکَ بِأَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ ھُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾[2] یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے،اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وہ باطل ہے،اور بے شک اللہ ہی بلندی والا کبریائی والا ہے۔ ثانیاً:تفصیلی طور پر: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اللّٰہُ الَّذِيْ خََلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِيَ فِيْ الْبَحْرِ بِأَمْرِہِ وَسَخَّرَ لَکُمُ الْأَنْھَارَ،وَسَخَّرَ لَکُمُ
[1] دیکھئے: تفسیربغوی،۱/۵۹،۳/۷۲،وتفسیرابن کثیر،۳/۴۵۱،۴/۱۴۹،وتفسیر شوکانی،۱/۶۰،۴/۴۲۰،وتفسیر سعدی،۱/۶۹،۶/۱۶۱،۷/۲۱،وفی ظلال القرآن ۱/۵۳،۵/۲۷۹۲ وأضواء البیان،از علامہ شنقیطی،۳/۲۲۵-۲۵۳۔ [2] سورۃ الحج: ۶۲،نیز دیکھئے: سورۃ لقمان: ۳۰۔