کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 278
ثالثا:غیر اللہ سے شفاعت طلب کرنے والے کے خلاف نص اور اجماع سے دلیل قائم کرنا،چنانچہ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نہ آپ سے پہلے کے انبیاء نے لوگوں کے لئے یہ مشروع کیا کہ وہ فرشتوں،یا انبیاء،یا صالحین کو پکاریں اور ان سے سفارش طلب کریں،اور نہ صحابۂ کرام اور ان کے سچے تابعین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے ایسا کیا،اور نہ مسلمانوں کے اماموں میں سے کسی نے اسے پسند کیا،نہ ائمۂ اربعہ نے،نہ ہی ان کے علاوہ کسی امام نے،نہ کسی ایسے مجتہد نے جس کے قول پر دین میں اعتماد کیا جاتا ہو،نہ کسی ایسے شخص نے جس کی بات کا اجماع کے مسائل میں اعتبار ہو،تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے ہی لائق ہیں۔[1]
[1] دیکھئے: فتاوی ابن تیمیہ،۱/۱۱۲،۱۵۸،۱۴/۳۹۹-۴۱۴،۱/۱۰۸-۱۶۵،۱۴/۳۸۰،۴۰۹،۱/۱۶۰-۱۶۶،۱۹۵،۲۲۸،۲۲۹،۲۴۱،ودرء تعارض العقل والنقل از ابن تیمیہ،۵/۱۴۷،واضواء البیان،۱/۱۳۷۔