کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 277
﴿یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِيَ لَہُ قَوْلاً﴾ [1] اس دن سفارش کچھ کام نہ آئے گی مگر جسے رحمن اجازت دیدے اور اس کی بات سے راضی ہوجائے۔ ۲- منفی شفاعت:یہ وہ شفاعت ہے جو غیر اللہ سے ایسی چیزوں میں طلب کی جائے جس پر صرف اللہ قادرہے،نیز اللہ کی اجازت اوررضا مندی کے بغیر شفاعت‘ نیز کافروں کے لئے شفاعت (بھی اسی قبیل سے ہے) ارشاد ہے: ﴿فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعَیْنَ﴾ [2] سفارشیوں کی سفارش انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی۔ البتہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سفارش مستثنیٰ ہے جو آپ ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے لئے فرمائیں گے۔[3]
[1] سورۃ طٰہ: ۱۰۹۔ [2] سورۃ المدثر: ۴۸۔ [3] دیکھئے: بخاری مع فتح الباری،مناقب الأنصار،باب قصۃ أبی طالب،۷/۱۹۳،وصحیح مسلم،کتاب الایمان،باب أھون أھل النار عذاباً،۱/۱۹۵،حدیث (۲۱۱)۔