کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 271
مبحث پنجم:مثبت ومنفی شفاعت شفاعت کا لغوی مفہوم: کہا جاتا ہے:’’شفع الشیء‘‘ یعنی کسی چیز میں ایک چیز اور ملا کر طاق کو جفت بنا دیا۔[1] اصطلاحی مفہوم: کسی کو نفع پہنچانے یا اس سے نقصان دفع کرنے کے لئے واسطہ بننا (شفاعت کہلاتا ہے)۔[2] جو شخص غیر اللہ سے تعلق قائم کرتا ہے اور اس کی شفاعت کا طالب ہوتا ہے اسے دعوت دینے میں قولی حکمت یہ ہے کہ اسے یہ سمجھایا جائے کہ شفاعت صرف تنہا اللہ کی ملکیت ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعاً لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاْتِ وَالْأَرْضِ
[1] دیکھئے: القاموس المحیط،باب عین،فصل شین،ص: ۹۴۷،والنھایۃ في غریب الحدیث،۲/ ۴۸۵،والمعجم الوسیط،۱/۴۸۷۔ [2] دیکھئے: شرح لمعۃ الاعتقاد از شیخ محمد بن صالح العثیمین،ص:۸۰۔