کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 261
اور بے بسی میں اضافہ ہی ہوگا۔[1]
۳- ان بلیغ ترین مثالوں میں جن سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ مشرک کی چادر تار تار ہوتی ہے اور وہ اپنے معاملے میں حیران وششدر ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ کا درج ذیل فرمان ہے:
﴿ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً رَّجُلاً فِیْہِ شُرَکَائُ مُتَشَاکِسُوْنَ وَرَجُلاً سَلَماً لِرَجُلٍ ھَلْ یَسْتَوِیَانِ مَثَلاً الْحَمْدُ لِلّٰہِ بَلْ أَکْثَرُھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ﴾ [2]
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے کہ ایک وہ شخص جس میں باہم ضد رکھنے والے شریک ہیں اور دوسرا وہ شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے،کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں،اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
یہ ایک مثال ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشرک اور موحد کے لئے بیان فرمائی ہے،چنانچہ مشرک چونکہ مختلف معبودوں کی پرستش کرتا ہے اس لئے اس کی تشبیہ
[1] دیکھئے:تفسیربغوي،۳/۴۶۸،وأمثال القرآن ازابن قیم،ص:۲۱،وفتح القدیرازشوکانی،۴/۲۰۴۔
[2] سورۃ الزمر:۲۹۔