کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 254
صالح اور اپنے رب سے قریب ہونے میں منافست کے ذریعہ اللہ کی طرف محتاجی کا اہتمام کرتے ہیں،اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں،تو جس کی یہ حالت ہو اس کی عبادت کیسے کی جا سکتی ہے؟۔[1] ارشاد باری ہے: ﴿أُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ إِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ أَیُّھُمْ أَقْرَبُ وَیَرْجُوْنَ رَحْمَتَہُ وَیَخَافُوْنَ عَذَابَہُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْراً﴾ [2] جنھیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو جائے،وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزدہ رہتے ہیں،بے شک تیرے رب کے عذاب سے ڈرنا ہی چاہئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان فرمادیا ہے کہ اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں تمام پہلوسے دعاء کی عدم قبولیت
[1] تفسیر ابن کثیر ۳/۴۸ و تفسیر سعدی ۴/۲۹۱۔ [2] سورۃ الاسراء: ۵۷۔