کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 250
سکتاہے،نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی چیز کا علم ہے ؟۔[1] اللہ عز وجل کے علاوہ جن کی بھی عبادت کی جاتی ہے ان کی عاجزی و درماندگی کو اللہ تعالیٰ نے بڑی اچھی طرح بیان فرمایا ہے،ارشاد باری ہے: ﴿قَلْ أَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَّلَا نَفْعاً وَاللّٰہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴾[2] آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے،اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا علم رکھنے والا ہے۔ نیز ارشاد ہے: ﴿أُ یُشْرِکُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئاً وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ،وَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْراً وَّلَا أَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ،وَإِنْ تَدْعُوْھُمْ
[1] دیکھئے:تفسیر ابن کثیر،۲/۸۳،۲۱۹،۲۷۷،۴۱۷،۳/۴۷،۲۱۱،۳۱۰،وتفسیرسعدي،۲/۳۲۷،۴۲۰،۳/۲۹۰،۴۵۱،۵/۲۷۹،۴۵۷،۶/۱۵۳،وأضواء البیان از علامہ شنقیطي،۲/۴۸۲،۳/۱۰۱،۳۲۲،۵۹۸،۵/۴۴،۶/۲۶۸۔ [2] سورۃ المائدۃ: ۷۶۔