کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 248
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا ہے،اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے،ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا،اور ہر ایک دوسرے پرچڑھ دوڑتا،اللہ کی ذات پاک اور بے نیاز ہے ان تمام اوصاف سے جن سے یہ متصف کرتے ہیں،وہ غیب وحاضر کا جاننے والا ہے اور جو شرک یہ کرتے ہیں اس سے بلند وبالا ہے۔
عالم علوی وسفلی کا استحکام اور از وقت ِخلقت اس کا نظم ونسق اور بعض کا بعض سے ربط انتہائی گہرا اور مکمل ہے،ارشاد باری ہے:
﴿مَا تَرَی فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ﴾ [1]
آپ اللہ رحمن کی تخلیق میں کوئی بے سلیقگی اور کجی نہ دیکھیں گے۔
اور ہر چیز مسخر اور مخلوقات کی مصلحتوں کے لئے حکمت کے ساتھ پابند کی ہوئی ہے،جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا کا مدبر ایک ہے،اس کا رب ایک ہے،اس کا معبود ایک ہے،جس کے سوا نہ تو کوئی معبود ہے اور نہ کوئی خالق۔[2]
[1] سورۃالملک: ۳۔
[2] دیکھئے: درء تعارض العقل والنقل ازابن تیمیہ،۹/۳۵۲،۳۵۴،۳۳۷-۳۸۲،۱/۳۵-۳۷ وتفسیر البغوی،۳/۲۴۱،۳۱۶،وابن کثیر،۳/۲۵۵،۱۷۶،وفتح القدیر ازشوکانی،۳/۴۰۲،۴۹۶،وتفسیر عبدالرحمن السعدی،۵/۲۲۰،۳۷۴،وأیسر التفاسیر از ابو بکر جابر الجزائری،۳/۹۹،ومناھج الجدل في القرآن الکریم از ڈاکٹر زاھر بن عواض الألمعي،ص:۱۵۸-۱۶۱۔