کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 243
بت پرست عورتیں،[1] اور ’’بت‘‘ ہر وہ چیز ہے اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جائے‘ خواہ وہ کوئی قبر ہو یا مزار ہو یا تصویر ہو یا کوئی اور چیز۔ جو بھی شخص کسی نبی،یا ولی،یا فرشتہ،یا جن کو پکارے،یا اس کے لئے کسی قسم کی عبادت کرے وہ اللہ کو چھوڑ کر اسے معبود بنا نے والا ہے،[2] اور درحقیقت
[1] دیکھئے: المعجم الوسیط مادہ’’وثن‘‘ ۲/۱۰۱۲۔ والمصباح المنیر،مادہ’’وثن‘‘ ص۶۴۸۔ علامہ ابن الاثیر فرماتے ہیں : ’’وثن‘‘ اور ’’صنم‘‘ کے درمیان فرق یہ ہے کہ ’وثن‘ ہر اس بت کوکہا جاتا ہے جس کا زمین کے اجزاء یا لکڑی یا پتھر وغیرہ سے کوئی جسم اور ڈھانچہ بنایا گیاہو،جیسے کسی آدمی کی شکل میں کوئی مجسمہ بنایا جائے اور پھر اسے نصب کرکے اس کی پوجا کی جائے۔ جبکہ ’صنم‘ اسے کہتے ہیں جس کی صرف شکل و صورت بنائی جائے‘ اس کا جسم یا ڈھانچہ نہ ہو۔ اور بعض لوگوں نے تفریق کے بغیر دونوں لفظوں کو دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔دیکھئے: النہایۃ فی غریب الحدیث ۵/۱۵۱،۳/۵۶۔ آگے فرماتے ہیں : ’’بسا اوقات ’وثن‘ کا لفظ اس چیز پر بھی بولا جاتا ہے‘ جس کی کوئی شکل و صورت نہ ہو،اسی قبیل سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی ہے،فرماتے ہیں : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ جبکہ میرے گلے میں سونے کی صلیب تھی ‘ تو آپ نے مجھے سے فرمایا: ’’یا عدي اطرح عنک ھذا الوثن‘‘۔ اے عدی! اپنے گلے سے اس بت کو نکال پھینکو۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے،کتاب التفسیر،باب تفسیر سوۃ التوبۃ،۵/ ۲۷۸،حدیث (۳۰۹۵)،نیز دیکھئے: صحیح سنن ترمذی ۳/۵۶۔ [2] دیکھئے: فتح المجید شرح کتاب التوحیداز شیخ عبد الرحمن بن حسن آل شیخ،ص ۲۴۴۔