کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 242
فصل چہارم:مشرکوں اور بت پرستوں کو توحید کی دعوت تمہید: ’’وثني‘‘ یعنی بت پرست وہ ہے جو دین و عقیدہ کے طور پربت کی پوجا کرے،[1] کہا جاتا ہے:بت پرست مرد‘ بت پرست لوگ‘ بت پرست عورت‘
[1] ’’وثن‘‘ کے معنیٰ بت کے ہیں ‘ جس کی جمع ’’وُثُن ‘‘ اور ’’اوثان‘‘ آتی ہے ‘یعنی کوئی مجسمہ (اسٹیچیو) جس کی پوجا کی جائے‘ خواہ وہ لکڑی ہو یا پتھر یا دھات یا چاندی یا کوئی اور چیز۔ بت پرستوں کا عقیدہ تھا کہ اُس کی عبادت انہیں اللہ سے قریب کردے گی،جیساکہ اللہ نے ان کا عقیدہ نقل کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ﴾[سورۃ الزمر: ۳]۔ ہم ان بتوں کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔ دیکھئے: القاموس المحیط،باب نون،فصل واو،ص ۱۵۹۷،و باب میم،فصل صاد،ص ۱۴۶۰۔ والمعجم الوسیط مادہ’’وثن‘‘ ۲/۱۰۱۲ و مادہ ’’صنم‘‘ ۱/۵۲۶۔ والمصباح المنیر،مادہ’’وثن‘‘ ص ۶۴۷،۶۴۸ومادہ ’’صنم‘‘ ص ۳۴۹،ومختار الصحاح،مادہ’’وثن‘‘ ص ۲۹۵و مادہ ’’صنم‘‘ ص ۱۵۶۔