کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 216
آپ‘‘ وغیرہ کہنا بھی ہے۔
تیسری قسم:شرک خفی:
(( الشرک في ھذہ الأمۃ أخفیٰ من دبیب النملۃ السوداء علیٰ صفاۃٍ سوداء في ظلمۃ اللیل)) [1]
شرک اس امت میں رات کی تاریکی میں کالی چٹان پر کالی چیونٹی کی چال سے بھی پوشیدہ تر ہے۔
اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ بندہ کہے:
(( اللّٰہم إني أعوذبک أن أشرک بک شیئاً و أنا أعلم،وأستغفرک من الذنب الذي لا أعلم)) [2]
اے اللہ میں تجھ سے اس بات کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کچھ بھی شریک کروں دراں حالیکہ میں جانتا ہوں،اور میں تجھ سے اس
[1] اسے حکیم ترمذی نے روایت کیا ہے،دیکھئے:صحیح الجامع ۳/۲۳۳،وتخریج الطحاویہ از ارنووط،ص ۸۳۔
[2] اسے حکیم ترمذی نے روایت کیا ہے،دیکھئے:صحیح الجامع ۳/۲۳۳،ومجموعۂ توحید،از احمد بن تیمیہ و محمد بن عبد الوہاب رحمہا اللہ،ص ۶۔