کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 211
چیزوں اور اس کے دردناک انجام سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔[1] مبحث سوم:بعض نواقض کی وضاحت اور نفاق و بدعت کی قسمیں ۱- پہلے ناقض ’’شرک‘‘ کی وضاحت: شرک:کہاجاتا ہے ’’أشرک باللّٰہ‘‘ یعنی اللہ کی بادشاہت یا اس کی عبادت میں اس کا شریک بنایا،لہٰذا ’’شرک‘‘ کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ اللہ کا کوئی شریک ٹھہرائیں جب کہ اس نے آپ کو تنہا پیدا کیا ہے،شرک سب سے بڑا گناہ ہے،نیز اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا جرم ہے،چنانچہ جس کسی نے محبت،عبادت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کو اللہ کے برابر قرار دیایا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش اور مبادی کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔[2] شرک کی تین قسمیں:
[1] مجموعۂ توحید،از شیخ الاسلام ابن تیمیہ وشیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہما اللہ،ص ۲۷،۲۸ ومولفات محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ،پہلی قسم: عقیدہ اور اسلامی آداب،ص۳۸۵،۳۸۷،ومجموعہ فتاویٰ شیخ ابن باز،۱/۱۳۵۔ [2] دیکھئے:قضیۃ التکفیر از مولف کتاب،ص ۹۔