کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 208
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللّٰہُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ﴾[1] یہ اس لئے کہ انھوں نے اللہ عزوجل کی نازل کردہ چیز کو ناپسند کیا تو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا۔ ششم: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں سے کسی چیز‘ یا اس کے ثواب ‘ یا اس کے عذاب کا استہزاء و مذاق کرے تو ایسا شخص کافر ہے،اس کی دلیل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا درج ذیل فرمان ہے: ﴿قُلْ أَبِاللّٰہِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ﴿٦٥﴾ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾[2] آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ ‘ اس کی آیتوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہو‘ بہانے نہ بناؤ تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ ہفتم: جادو‘ اور اسی قبیل سے صرف([3]) اور عطف ([4]) بھی ہے،جس نے
[1] سورۃ محمد:۹۔ [2] سورۃ التوبہ: ۶۵،۶۶۔ [3] یہ ایک جادو ئی عمل ہے جس سے انسان کی طبیعت کو بدلنا اور اس کی خواہش سے پھیرنا مقصود ہوتا ہے،جیسے آدمی کواپنی بیوی کی محبت سے نفرت کی طرف پھیر دینا۔ [4] یہ بھی ایک جادوئی عمل ہے جس سے آدمی کوکسی ایسی چیز کی رغبت دلانا مقصود ہوتا جسے وہ نہ چاہتا ہو،تو وہ شیطانی کرشموں کے ذریعہ اس مبغوض شے سے محبت کرنے لگتا ہے۔