کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 206
دس چیزیں ہیں۔[1]
اول:
اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کرنا،اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللّٰہَ لا یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ﴾ [2]
یقینا اللہ تعالیٰ اس چیز کو ہر گز نہیں معاف کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے،اور اس کے علاوہ گناہوں کو جس کے لئے چاہے بخش دے گا۔
نیز ارشاد ہے:
﴿إِنَّہُ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ،وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنْصَارٍ﴾ [3]
بے شک جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس پر اللہ نے جنت حرام کردی
[1] انہیں امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے،میں ا نہیں باللفظ ذکرکروں گا پھر اس کے بعد اہل علم کی بعض توضیحات بھی قلمبند کروں گا۔دیکھئے:مولفات محمدبن عبد الوہاب :پہلی قسم عقیدہ اور اسلامی آداب،ص۳۸۵،مجموعۃ التوحید،از شیخ الاسلام ابن تیمیہ وشیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہما اللہ،ص ۲۷،۲۸۔
[2] سورۃ النساء: ۱۱۶۔
[3] سورۃ المائدۃ: ۷۲۔