کتاب: کلمہ طیبہ مفہوم فضائل - صفحہ 202
میری ملاقات ہوئی ہوتی توتمہیں وہاں جانے نہ دیتا!!،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (( لا تعمل المطی إلا إلی ثلاثہ مساجد۔۔۔)) [1] سفر صرف تین مسجدوں کے لئے ہی کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ اسی لئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ:’’ ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے علاوہ انبیاء وصالحین کی قبروں کی طرف سفر کرنے کی نذر مانے تو اس کے لئے اپنی نذر کا پورا کرنا ضروری نہ ہوگا،بلکہ اسے اس سے منع کیا جائے گا‘‘۔[2] ۵- زیارت قبور کی قسمیں:زیارت قبورکی دو قسمیں: پہلی قسم:مشروع زیارت:جس کا مقصد اہل قبور کو سلام کرنا اور ان کے لئے دعا کرنا ہوتا ہے،جیساکہ کسی کے مرنے پر نماز جنازہ کا مقصد ہوتا ہے،اور
[1] نسائی،کتاب الجمعۃ،باب الساعۃ التي یستجاب فیھا الدعاء یوم الجمعۃ،۳/۱۱۴،ومالک في الموطأ،کتاب الجمعۃ،باب الساعۃ التي في یوم الجمعۃ،۱/۱۰۹،مسند احمد،۶/۷،۳۹۷،نیز دیکھئے: فتح المجید،ص:۲۸۹،وصحیح النسائی،۱/۳۰۹۔ [2] دیکھئے: فتاوی ابن تیمیۃ،۱/۲۳۴۔